WE News:
2026-07-24@02:01:06 GMT

تہذیبی کشمکش اور ہمارا لوکل لبرل

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

برٹش انڈیا کے بعد سے ہمیں اس سنگین بحران کا سامنا ہے کہ ہم بطور معاشرہ پروپیگنڈوں کے اسیر ہوگئے ہیں۔ ان پروپیگنڈوں کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہم تعمیری گفتگو یا کام کی بجائے لغویات میں مبتلا ہیں۔

پروپیگنڈے حقائق جھٹلانے کا بھی کام کرتے ہیں سو ہم حقائق کا بھی انکار کر ڈالتے ہیں۔ اپنے حریف گروہ کی خوبیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے اس کی خامیاں ڈھونڈتے ہیں۔ اگر معمولی سی خامی ہاتھ آجائے تو اس کا وزن مبالغے کے تڑکے سے بڑھا دیتے ہیں اور اگر مطلوبہ نوعیت کی خامی نہ ملے تو یہ سوچ کر جھوٹ کا تکا آزما لیتے ہیں کہ مخالف شاید اس پہلو سے مکمل لاعلم  ہو۔

مثلا آپ ہمارے مذہبی طبقے کو ہی لے لیجیے۔ آپ ان سے یہ سادہ سا سوال کیجیے کہ آپ کی مغرب کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ وہ جواب کا آغاز یا تو ان جنگوں سے کریں گے جو مغرب نے مسلط کیں۔ یا پھر ان کے معاشرتی مسائل کو زیر بحث لائیں گے۔ آپ اس گفتگو کا دائرہ گھنٹوں پر محیط کر لیجیے اور خود سے ’علمی خدمات‘ کا اشارہ مت دیجیے۔ وہ کسی صورت اس کی طرف نہیں آئیں گے۔ اس کے بعد آپ اٹھ کر لبرل طبقے کی کسی مجلس میں پہنچ جایئے۔ اور ان سے یہ سمپل سا سوال کیجیے کہ مسلم تہذیب کے دور عروج سے متعلق ان کی کیا رائے ہے ؟

وہ آپ کو بتائیں گے تلوار کے زور پر ممالک فتح کیے گئے اور اس دوران بڑے مظالم کیے گئے۔ داخلی انتشار تھا، مسلم سلاطین ایک دوسرے سے بھی لڑے۔ ایک دوسرے پر فتوے لگائے گئے۔ سائنس کو حرام قرار دیا گیا۔ اسلامی وحدت تو تھی ہی نہیں فرقہ واریت زوروں پر تھی۔ اخوان الصفاء کی کتابیں جلائی گئیں۔ ماڈرن علوم کا فروغ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جو سب پروپیگنڈہ ہے حقیقت میں تو ملا سائنس کے خلاف فتوے دے رہے تھے وغیر وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی لٹریچر اور ہمارے نوجوان علما

جب یہ خوب بول چکیں تو پھر آپ ان سے یہی سوال مغرب سے متعلق بھی کر لیجیے۔ لائیے اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دیدیں کہ مغرب سے متعلق یہ گفتگو کا آغاز ہی رینسانس کے بعد والے مغرب سے کریں گے۔ مغرب کے پہلے دور کی جانب یہ جائیں گے ہی نہیں۔ اور اگر گئے تو پھر 2 ہی چیزوں کا توصیفی تذکرہ کریں گے۔ ایک گریک متھالوجی اور دوسرا یونانی فلسفہ۔ گویا یہ مغرب کی تعریف ہی مسخ کر ڈالیں گے جو یہ ہے

’مغرب نام ہے یونی فلسفے، رومن نظم و نسق اور عیسائی تعلیمات کا‘

اس تعریف میں رومن حوالہ ان کے لیے جان لیوا ہے۔ کیونکہ رومن وہ ہیں جنہوں نے یونانی فلاسفہ پر ان کے فلسفے سمیت کفر کے فتوے لگا کر انہیں واجب القتل قرار دیا۔ اور رومن ہی ہیں جنہوں نے اسکندریہ والی لائبریری کو ایک نہیں 3 بار نذر آتش کیا۔ اور تب تک اس کی جان نہ چھوڑی جب تک اسے خاکستر نہ کرچکے۔

ذرا بددیانتی دیکھئے کہ یہ مسلمانوں کے پہلے دور کا مغرب کے پہلے دور سے نہیں بلکہ رینسانس کے بعد والے دور سے موازنہ کرتے ہیں۔ حالانکہ بچ یہ یہاں بھی نہیں پاتے۔ مثلاً ایک حالیہ مثال دیکھیے۔ کیا عیسائیت میں 5 فرقے نہیں؟ اور یوکرین کی جنگ کے دوران عیسائیت کے روسی آرتھوڈوکس فرقے کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ زلنسکی کے ہاتھوں نشانہ نہیں بنویا گیا ؟  اس کے چرچ تباہ اور پادری گرفتار و ہراساں نہیں کیے گئے؟ اس فرقے پر باقاعدہ سرکاری پابندی نہیں لگوائی گئی؟ اور یہ سب کروایا کس نے؟ اسی امریکا اور یورپ نے جس کی مدح سرائی کرتے ہمارے لبرل تھکتے نہیں۔

مسلمانوں نے تلوار کے ذریعے ممالک فتح کیے اور بڑا ظلم کیا؟ چلیں پہلے ظلم والے حصے کو دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ کے چند بڑے قتل عام ہسٹری میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں۔ ایسے ایسے قتل عام جن میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ ان سب کی مجموعی تعداد کروڑوں میں ہے۔ کیا ان میں سے ایک بھی مسلمانوں سے منسوب ہے؟ کوئی ایک بھی شہر ایسا ہے جسے فتح کرنے کے بعد مسلمانوں نے آگ لگا کر خاکستر کردیا ہو؟  کوئی ایک لائبریری ہے جسے مسلمانوں نے نذر آتش کیا ہو؟  دینے کو مغرب کے ہاتھوں ہونے والے بہت بڑے قتل عاموں کی مثالیں موجود ہیں اور وہ بھی رینسانس کے بعد کی۔ مگر آپ جاپان والے 2 ایٹم بم ہی دیکھ لیجیے۔ جو ابھی کل ہی کی بات ہے۔ وہ سویلین آبادی کا قتل عام نہ تھا تو کیا تھا؟ عین ماڈرن دور کا قتل عام۔

رہی تلوار کے ذریعے ممالک فتح کرنے کی بات تو یہ نری جہالت کے سوا کچھ ہے بھی نہیں۔ لگتا ہے ہمارے لبرلز نے کبھی بیلنس آف پاور، جیو پالیٹکس، جیو اکنامک اور جیو اسٹریٹجی نامی چڑیوں کے نام نہیں سنے۔ کیا پرشین ایمپائر پاگل تھی جو یونانیوں پر حملے کے لیے بار بار گئی؟ کیا سکندراعظم کو پاگل کتنے نے کاٹ لیا تھا جو دنیا فتح کرنے نکلا ؟ کیا رومنز نے بس دیوانگی کے زیر اثر گریک سویلائزیشن کو فنا کے گھاٹ اتار دیا؟  کیا مسلم زوال کے بعد سپین محض نشے میں لاطینی امریکا تک پہنچ گیا تھا؟ کیا ایک صبح برطانوی جاگے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی سلطنت میں تو اب سورج ہی غروب نہیں ہوتا؟ کیا پرتگالی، فرانسیسی اور ڈچ فوجیں مطالعاتی دورے پر دنیا کے مختلف کونوں میں پہنچ گئی تھیں؟ کیا ہٹلر نے محض اس لیے یورپ کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی کہ ڈیگال نے اس سے کہہ دیا تھا ’منے تھاری مچھا اچھی نا لگیں؟‘  اور یہ امریکا جو عین اس لمحہ موجود میں وینزویلا کو بحری بیڑوں سے گھیر کر کھڑا ہے، وہاں کیا کرنے گیا ہے؟ کرسمس کے تحائف بانٹنے گیا ہے؟

مسلم سلاطین آپسی جنگوں میں مبتلا ہوئے؟ کیا ان کی باہمی جنگیں یورپین جنگوں سے زیادہ ہیں؟ وہ تو شکر کیجیے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا نے مارشل پلان کا لولی پاپ دے کر انہیں غلام بنا کر کنٹرول کرلیا ورنہ انسانی تاریخ کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم دینے والے باز رہتے؟ برطانویوں اور فرانسیسیوں کی باہمی نفرت، پھر فرانس اور اٹلی کی آپسی نفرت اور ان سب کی جرمنز سے نفرت، یہ کوئی سربستہ راز ہیں؟

 اندلس میں سائنس کے خلاف چند علما کے فتوے  تو نظر آجاتے ہیں، وہ گورے دانشور کیوں نظر نہیں آتے جو ڈاکومنٹریز بنا بنا کر کہہ رہے ہیں کہ مون لینڈنگ ایک سائنسی فراڈ اور جھوٹ تھا؟ وہ کروڑوں امریکی کیوں نظر نہیں آتے جن کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹھیک کیا کہ امریکا کو ’پیرس ایگریمنٹ‘ سے نکالا کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی کا دعوی ایک بکواس اور فراڈ ہے؟ اگر اندلس کے چند علما کے فتوے کوئی سنجیدہ معاملہ ہوتے تو وہ سائنسی پیش رفت ہوپاتی جو وہاں ہوئی؟ وہ اس لیے ہوپائی کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اندلس کی مساجد کے مینار تک خلائی سائنس کی رصدگاہ کے طور پر زیر استعمال تھے۔  یقین نہ آئے تو ذرا قرطبہ کی مسجد میں جاکر مشاہدہ کر لیجیے جو اس وقت بھی موجود ہے۔

ہمارے لوکل لبرلز نے اخوان الصفاء تو بڑی یاد رکھی ہوئی ہے مگر امریکا میں کمیونسٹوں کے ساتھ  ہونے والا اخوان الصفاء سے بھی بدتر سلوک نظر نہیں آتا؟ کیا اس کی تفصیل بھی ہم ہی کو بتانی پڑے گی؟ کبھی آپریشن گلاڈیو کا نام سنا ہے؟ کچھ معلوم ہے کہ اس کے ذریعے فرانس اور اٹلی سمیت کئی یورپین ممالک  میں کتنے کمیونسٹوں کو بال بچوں سمیت قتل کیا گیا؟ مغربی یورپ کے تمام ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز سالوں چلنے والے اس آپریشن میں شامل تھیں۔ اور یہ سب لبرل ازم کے دور عروج میں ہوا۔اس آپریشن کو موضوع بنا کر کئی مغربی اسکالر پی ایچ ڈی کرچکے۔ ہمارا اپنے لوکل لبرلز کا مشورہ ہے کہ دھندہ تو اب ویسے بھی وڑ چکا۔ اور کوئی بھی فنڈنگ نہیں آنی، اس لیے بہتر یہ ہے کہ پروپیگنڈوں سے حقائق کی دنیا میں آجائیں۔

مثلاً یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ میں جسے مظم اور باقاعدہ علمی آغاز کہا جاسکے وہ یونانیوں کا  ہی بے مثال کارنامہ ہے۔ جس میں ان کی برتری یہ ہے کہ وہ گویا موجد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کام وہ ایک لیول پر ہی پہنچا پائے تھے کہ رومنز کا نشانہ بن گئے۔ مگر عقلمندی یہ کردی تھی کہ اپنا کتب خانہ بحفاظت ایران منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہی ایران جس کے خلاف کشمکش کے دور میں ’مغرب و مشرق‘ کی تاریخی سیاسی و فکری اصطلاح یونانیوں نے ہی تخلیق کی تھی۔ ایک ایسی اصطلاح جس کی کھینچی ہوئی لکیر اس لمحہ موجود میں بھی پوری طرح موجود ہے۔  اور جس کے نتیجے میں رینسانس کے بعد والے دور میں استشراق کی پوری واردات وجود میں آئی تھی۔

مزید پڑھیے: دہشت گردی: اسباب اور سہ رخی حل

سو جب مسلم فتوحات کے دور میں وہ لائبریری مسلمانوں کے ہاتھ لگی تو انہوں نے 3 علمی کارنامے انجام دیے۔ پہلا یہ کہ کچھ لٹریچر عبرانی زبان میں تھا مگر عبرانی بولنے والا کورہ ارض پر کوئی نہ بچا تھا۔ چنانچہ اس مری ہوئی زبان کو مسلمانوں نے پھر سے زندہ کیا جو آج نیتن یاہو سمیت ہر اسرائیلی فرفر بول رہا ہے۔ دوسرا کام یہ کہ یونانی لٹریچر کے تراجم کیے۔ اور تیسرا یہ کہ فلسفے اور ریاضی سمیت جو بھی علوم ان کے ہاتھ لگے تھے، انہیں  اس لیول سے اگلی ارتقائی منازل پر پہنچانا شروع کیا جس لیول پر یونانیوں نے چھوڑا تھا۔

ہمارا مقامی لبرل نہیں مانتا تو سو بار نہ مانے۔ مگر خود مغرب تو مانتا ہے۔ یعنی جس طرح مسلم تہذیب نے برملا اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ عقلی و انسانی علوم کے ہم موجد نہیں بلکہ یہ ہمارے پاس یونانی ورثے کے طور پر آئے تھے، اور ہم نے انہیں آگے کی ارتقائی منازل تک پہنچایا ہے۔ بعینہ مغربی تہذیب بھی اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کرتی ہے کہ یہ جو ہماری علمی ترقی ہے یہ ہمارے پاس یونانیوں اور مسلمانوں کے ورثے کے طور پر پہنچنے والے علمی کام کی ایکسٹینشن ہے۔

پنڈولم ایک بار پھر حرکت میں ہے۔ اب چائنا کا دور شروع ہو رہا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے چائنیز اس بات کا اعتراف نہیں رکھتے کہ علم کو مغرب نے جہاں پہنچایا ہے، اس سے آگے کا ارتقائی عمل اب وہ انجام دینا شروع کرچکے؟

سو یہ بات اچھی طرح ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ سائنس پر کسی بھی تہذیب کی تنہا اجارہ داری نہیں۔ یونانی تہذیب نے اس کی بنیاد رکھی تھی، مسلم تہذیب نے اس پر کئی منازل تعمیر کیں، مغربی تہذیب نے اسے مزید بلندیوں تک پہنچایا اور اب چائنیز تہذیب کی باری ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری سپیڈ یونانیوں سے زیادہ تھی کیونکہ مراحل ہی نہیں وسائل بھی ترقی پا رہے تھے۔ اسی طرح مغرب کی اسپیڈ ہم سے زیادہ تھی اور اب چین کی اسپیڈ مغرب سے بھی تیز تر ہوگی۔ یہ ترقی ہے جس کی خاصیت ہی یہ ہے کہ اس کی اسپیڈ زمانے کے ساتھ تیز سے تیز تر رہوتی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: جیو پالیٹکس اور مذہبی عینک

ہمیں ڈر ہے اس اسپیڈ میں لوکل لبرل کہیں گورے کے پلیٹ فارم پر ہی نہ رہ جائے کیونکہ اسے اپنے زوال کے ان مراحل میں اب بائبل اور خاندان یاد آنے لگے ہیں، سو وہ انہی کی طرف لوٹ رہا ہے، مگر آپ؟ آپ کہاں جائیں گے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

پروپیگنڈا تہذیبی کشمکش سکندر اعظم لبرل طبقہ لوکل لبرل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پروپیگنڈا تہذیبی کشمکش لوکل لبرل رینسانس کے بعد لوکل لبرل تہذیب نے یہ ہے کہ قتل عام کے ساتھ مغرب کے کے دور سے بھی

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف