Islam Times:
2026-07-24@09:14:38 GMT

ایران کے بارے میں ٹرمپ کی خام خیالی

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

ایران کے بارے میں ٹرمپ کی خام خیالی

اسلام ٹائمز: دستاویز میں اعتراف کیا گیا ہے کہ خلیج فارس کے وسائل کو دشمن کے ہاتھ سے دور رکھنا، اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا، امریکہ کے بنیادی مفادات ہیں۔ یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے مشرقِ وسطیٰ کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک ساختیاتی انحصار ہے۔ وہ مواقع جو امریکہ کھو رہا ہے۔ دستاویز میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے لیے ٹیکنالوجی، ایٹمی توانائی اور دفاعی سرمایہ کاری کے مواقع کا ذکر ہے، لیکن جو بات نہیں کہی گئی، وہ یہ ہے کہ چین اور روس پہلے ہی ان میدانوں میں سرمایہ کاری اور دیرینہ معاہدوں کے ساتھ امریکہ سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:

امریکی حکومت کی قومی سلامتی کی نئی دستاویز، ایک جامع حکمتِ عملی سے زیادہ، تشہیری تعبیرات، انتخاباتی امیدوں اور غیر حقیقت پسندانہ تجزیوں کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ ایران کی طاقت کے بارے میں عمیق نگرانی، اسرائیل کی بازدارندگی دوبارہ قائم کرنے کی کوششیں، اور امریکی کامیابیوں کے غیر معمولی مبالغہ آمیز دعوے واضح کرتے ہیں کہ واشنگٹن خطے کی بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتِ حال کے مقابلے میں شدید سردرگمی کا شکار ہے۔

33 صفحات پر مشتمل یہ نئی حکمتِ عملی کی دستاویز آنے والے برسوں میں وائٹ ہاؤس کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں کی بنیاد کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ امریکی سیاسی روایت میں ایسی دستاویز ہمیشہ واشنگٹن کے لیے ایک جامع سکیورٹی روڈ میپ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم اس بار یہ دستاویز زیادہ تر ٹرمپ انتظامیہ کی دنیا کو دیکھنے کی عینک کی عکاسی کرتی ہے—جس میں خطرات، رقابتیں اور جیوپولیٹیکل چیلنجز کو مخصوص سیاسی بیانیوں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔

ایران کے گرد گھومتے تجزیئے:
صرف مغربی ایشیا کے حصے میں ایران کا نام تین بار آیا ہے، لیکن عملی طور پر خطے کے زیادہ تر تجزیے ایران کے گرد گھومتے ہیں۔ ایران کی طاقت کا خوف واضح طور پر ظاہر ہے۔ دستاویز میں ایران کو خطے کا سب سے بڑا غیر مستحکم کرنے والا عنصر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برس میں اسے نمایاں طور پر کمزور کیا گیا ہے۔ یہ بظاہر ایک سکیورٹی تجزیہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ عیاں ہے کہ امریکی سکیورٹی ادارے اب بھی ایران کی بڑھتی ہوئی علاقائی طاقت کے خوف میں مبتلا ہیں، وہ طاقت جو 12 روزہ جنگ اور محورِ مقاومت کی ہم آہنگ کارروائیوں میں پوری شدت سے ظاہر ہوئی، اور جس نے اسرائیلی محاذ کو بھاری اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کیا۔

دستاویز میں یہ بھی دعویٰ ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کی کارروائیوں اور جون 2025 میں آپریشن کے ذریعے ایرانی جوہری پروگرام کو "شدید نقصان" پہنچایا گیا ہے۔ یہ دعویٰ تکنیکی بنیادوں سے زیادہ سیاسی پروپیگنڈے پر مبنی ہے، کیونکہ عالمی ایٹمی ایجنسی اور متعدد رپورٹس کے مطابق ایران کا جوہری ڈھانچہ شدید حفاظتی اقدامات اور جغرافیائی تنوع کے باعث محدود حملوں سے متاثر نہیں ہوتا۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان امن کا وہم: 
شاید دستاویز کا سب سے عجیب اور غیر حقیقی دعویٰ یہ ہے کہ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک تفاهم قائم کر دیا ہے۔ نہ اس کی کوئی سفارتی بنیاد ہے، نہ سیاسی اشارہ، اور نہ ہی میدانِ عمل میں ایسی کسی تبدیلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ دعویٰ دراصل دستاویز کے انتخاباتی اور تشہیری ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے، ایسا کارنامہ گھڑنے کی کوشش ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دستاویز میں جس چیز کو ایران کی کمزوری کہا گیا ہے، وہ اصل میں اسرائیل کے لیے بڑھتی ہوئی جنگی لاگت، طاقت کے توازن میں تبدیلی، اور ایران کے اسٹریٹجک اثر میں توسیع کا اشارہ ہے، نہ کہ ایران کی پسپائی۔

مشرقِ وسطیٰ سے امریکی وابستگی کی حقیقت:
دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی کمزوری اور عرب اتحاد کے بعد مشرقِ وسطیٰ امریکہ کے لیے اب مستقل بحران کا منبع نہیں رہا اور واشنگٹن اپنی توجہ چین اور روس جیسے بڑے حریفوں پر مرکوز کر سکتا ہے۔ یہ دعویٰ بھی زمینی حقائق کے خلاف ہے۔ گزشتہ برسوں میں امریکہ شام، عراق اور بحیرۂ احمر میں زیادہ حملوں کا نشانہ بنا، اپنے اڈوں کی حفاظت کے لیے مزید فوجی تعینات کرنے پر مجبور ہوا، اور خطے سے انخلا کا کوئی امکان پیدا نہ کر سکا۔ اصل حقیقت یہ ہے امریکہ کی خطے سے سکیورٹی وابستگی کم نہیں ہوئی، بلکہ بڑھ گئی ہے۔

دستاویز میں اعتراف کیا گیا ہے کہ خلیج فارس کے وسائل کو دشمن کے ہاتھ سے دور رکھنا، اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا، امریکہ کے بنیادی مفادات ہیں۔ یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے مشرقِ وسطیٰ کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک ساختیاتی انحصار ہے۔ وہ مواقع جو امریکہ کھو رہا ہے۔ دستاویز میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے لیے ٹیکنالوجی، ایٹمی توانائی اور دفاعی سرمایہ کاری کے مواقع کا ذکر ہے، لیکن جو بات نہیں کہی گئی، وہ یہ ہے کہ چین اور روس پہلے ہی ان میدانوں میں سرمایہ کاری اور دیرینہ معاہدوں کے ساتھ امریکہ سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔

اس ماحول میں نئے مواقع کا دعویٰ حقیقت سے زیادہ سیاسی آرزو رکھتا ہے۔ یہ ایک حکمت عملی نہیں، ایک سیاسی کہانی اور جھوٹا بیانیہ ہے۔ مجموعی طور پر امریکی قومی سلامتی کی یہ نئی دستاویز، تشہیر، انتخاباتی مہم کا پروپیگنڈا اور ناقص تجزیاتی تعبیرات کا مرکب ہے۔ ایران کی قوت سے خوف، اسرائیل کی شکستوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش، اور امریکی کامیابیوں کا مبالغہ آمیز بیانیہ بتاتا ہے کہ واشنگٹن خطے کی تیزی سے بدلتی جیوپولیٹیکل حقیقتوں کے مقابلے میں شدید ابہام کا شکار ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے، ایران نہ کمزور ہوا ہے، نہ محدود، بلکہ ڈیٹرنس کی مضبوطی، علاقائی اثر و رسوخ کی توسیع اور اسٹریٹجک ڈھانچوں کی تقویت کے ساتھ آج پہلے سے زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ کے لیے کیا گیا ہے کہ سرمایہ کاری دستاویز میں سے زیادہ ایران کی ایران کے یہ ہے کہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا