ایران کے بارے میں ٹرمپ کی خام خیالی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: دستاویز میں اعتراف کیا گیا ہے کہ خلیج فارس کے وسائل کو دشمن کے ہاتھ سے دور رکھنا، اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا، امریکہ کے بنیادی مفادات ہیں۔ یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے مشرقِ وسطیٰ کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک ساختیاتی انحصار ہے۔ وہ مواقع جو امریکہ کھو رہا ہے۔ دستاویز میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے لیے ٹیکنالوجی، ایٹمی توانائی اور دفاعی سرمایہ کاری کے مواقع کا ذکر ہے، لیکن جو بات نہیں کہی گئی، وہ یہ ہے کہ چین اور روس پہلے ہی ان میدانوں میں سرمایہ کاری اور دیرینہ معاہدوں کے ساتھ امریکہ سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:
امریکی حکومت کی قومی سلامتی کی نئی دستاویز، ایک جامع حکمتِ عملی سے زیادہ، تشہیری تعبیرات، انتخاباتی امیدوں اور غیر حقیقت پسندانہ تجزیوں کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ ایران کی طاقت کے بارے میں عمیق نگرانی، اسرائیل کی بازدارندگی دوبارہ قائم کرنے کی کوششیں، اور امریکی کامیابیوں کے غیر معمولی مبالغہ آمیز دعوے واضح کرتے ہیں کہ واشنگٹن خطے کی بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتِ حال کے مقابلے میں شدید سردرگمی کا شکار ہے۔
33 صفحات پر مشتمل یہ نئی حکمتِ عملی کی دستاویز آنے والے برسوں میں وائٹ ہاؤس کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں کی بنیاد کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ امریکی سیاسی روایت میں ایسی دستاویز ہمیشہ واشنگٹن کے لیے ایک جامع سکیورٹی روڈ میپ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم اس بار یہ دستاویز زیادہ تر ٹرمپ انتظامیہ کی دنیا کو دیکھنے کی عینک کی عکاسی کرتی ہے—جس میں خطرات، رقابتیں اور جیوپولیٹیکل چیلنجز کو مخصوص سیاسی بیانیوں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔
ایران کے گرد گھومتے تجزیئے:
صرف مغربی ایشیا کے حصے میں ایران کا نام تین بار آیا ہے، لیکن عملی طور پر خطے کے زیادہ تر تجزیے ایران کے گرد گھومتے ہیں۔ ایران کی طاقت کا خوف واضح طور پر ظاہر ہے۔ دستاویز میں ایران کو خطے کا سب سے بڑا غیر مستحکم کرنے والا عنصر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برس میں اسے نمایاں طور پر کمزور کیا گیا ہے۔ یہ بظاہر ایک سکیورٹی تجزیہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ عیاں ہے کہ امریکی سکیورٹی ادارے اب بھی ایران کی بڑھتی ہوئی علاقائی طاقت کے خوف میں مبتلا ہیں، وہ طاقت جو 12 روزہ جنگ اور محورِ مقاومت کی ہم آہنگ کارروائیوں میں پوری شدت سے ظاہر ہوئی، اور جس نے اسرائیلی محاذ کو بھاری اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کیا۔
دستاویز میں یہ بھی دعویٰ ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کی کارروائیوں اور جون 2025 میں آپریشن کے ذریعے ایرانی جوہری پروگرام کو "شدید نقصان" پہنچایا گیا ہے۔ یہ دعویٰ تکنیکی بنیادوں سے زیادہ سیاسی پروپیگنڈے پر مبنی ہے، کیونکہ عالمی ایٹمی ایجنسی اور متعدد رپورٹس کے مطابق ایران کا جوہری ڈھانچہ شدید حفاظتی اقدامات اور جغرافیائی تنوع کے باعث محدود حملوں سے متاثر نہیں ہوتا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان امن کا وہم:
شاید دستاویز کا سب سے عجیب اور غیر حقیقی دعویٰ یہ ہے کہ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک تفاهم قائم کر دیا ہے۔ نہ اس کی کوئی سفارتی بنیاد ہے، نہ سیاسی اشارہ، اور نہ ہی میدانِ عمل میں ایسی کسی تبدیلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ دعویٰ دراصل دستاویز کے انتخاباتی اور تشہیری ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے، ایسا کارنامہ گھڑنے کی کوشش ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دستاویز میں جس چیز کو ایران کی کمزوری کہا گیا ہے، وہ اصل میں اسرائیل کے لیے بڑھتی ہوئی جنگی لاگت، طاقت کے توازن میں تبدیلی، اور ایران کے اسٹریٹجک اثر میں توسیع کا اشارہ ہے، نہ کہ ایران کی پسپائی۔
مشرقِ وسطیٰ سے امریکی وابستگی کی حقیقت:
دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی کمزوری اور عرب اتحاد کے بعد مشرقِ وسطیٰ امریکہ کے لیے اب مستقل بحران کا منبع نہیں رہا اور واشنگٹن اپنی توجہ چین اور روس جیسے بڑے حریفوں پر مرکوز کر سکتا ہے۔ یہ دعویٰ بھی زمینی حقائق کے خلاف ہے۔ گزشتہ برسوں میں امریکہ شام، عراق اور بحیرۂ احمر میں زیادہ حملوں کا نشانہ بنا، اپنے اڈوں کی حفاظت کے لیے مزید فوجی تعینات کرنے پر مجبور ہوا، اور خطے سے انخلا کا کوئی امکان پیدا نہ کر سکا۔ اصل حقیقت یہ ہے امریکہ کی خطے سے سکیورٹی وابستگی کم نہیں ہوئی، بلکہ بڑھ گئی ہے۔
دستاویز میں اعتراف کیا گیا ہے کہ خلیج فارس کے وسائل کو دشمن کے ہاتھ سے دور رکھنا، اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا، امریکہ کے بنیادی مفادات ہیں۔ یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے مشرقِ وسطیٰ کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک ساختیاتی انحصار ہے۔ وہ مواقع جو امریکہ کھو رہا ہے۔ دستاویز میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے لیے ٹیکنالوجی، ایٹمی توانائی اور دفاعی سرمایہ کاری کے مواقع کا ذکر ہے، لیکن جو بات نہیں کہی گئی، وہ یہ ہے کہ چین اور روس پہلے ہی ان میدانوں میں سرمایہ کاری اور دیرینہ معاہدوں کے ساتھ امریکہ سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔
اس ماحول میں نئے مواقع کا دعویٰ حقیقت سے زیادہ سیاسی آرزو رکھتا ہے۔ یہ ایک حکمت عملی نہیں، ایک سیاسی کہانی اور جھوٹا بیانیہ ہے۔ مجموعی طور پر امریکی قومی سلامتی کی یہ نئی دستاویز، تشہیر، انتخاباتی مہم کا پروپیگنڈا اور ناقص تجزیاتی تعبیرات کا مرکب ہے۔ ایران کی قوت سے خوف، اسرائیل کی شکستوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش، اور امریکی کامیابیوں کا مبالغہ آمیز بیانیہ بتاتا ہے کہ واشنگٹن خطے کی تیزی سے بدلتی جیوپولیٹیکل حقیقتوں کے مقابلے میں شدید ابہام کا شکار ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے، ایران نہ کمزور ہوا ہے، نہ محدود، بلکہ ڈیٹرنس کی مضبوطی، علاقائی اثر و رسوخ کی توسیع اور اسٹریٹجک ڈھانچوں کی تقویت کے ساتھ آج پہلے سے زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ کے لیے کیا گیا ہے کہ سرمایہ کاری دستاویز میں سے زیادہ ایران کی ایران کے یہ ہے کہ
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ