حکومت پنجاب کابلدیاتی ایکٹ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، مفتی عامر محمود
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
ملتان میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی ملتان کے صدر کا کہنا تھا کہ غیرجماعتی بنیادوں پر الیکشن کا انعقاد سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جس میں وہ تمام اختیارات نچلی سطح پر عوامی نمائندوں کو دینے کی بجائے سرکار کو نواز نے کے لئے دینا چاہتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام ملتان کے ضلعی امیر مفتی عامرمحمود نے کہا ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں یہاں جمہوریت ہے بادشاہت نہیں، اسی لئے بادشاہی فرمان نہ چلائے جائیں، حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ایک بار پھر قوم کی نگاہیں قائد مولانا فضل الرحمن کے عوام دوست مضبوط بیانیہ پر مرکوز ہیں، حکومت پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، جس کے خلاف جے یو آئی ہر سطح پر اپنی آواز بلند کرے گی اور عوام کے حقوق کے لئے ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی، آئین کے ساتھ کھلواڑ کسی صورت نہیں ہونے دیں گے اور قیادت کے بیانیہ کو عام کرنے کی بھرپور مہم چلائیں گے، 27 دسمبر کو ملتان مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں کنونشن ہوگا جس کی صدارت قائد مولانا فضل الرحمن کریں گے۔
غیرجماعتی بنیادوں پر الیکشن کا انعقاد سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جس میں وہ تمام اختیارات نچلی سطح پر عوامی نمائندوں کو دینے کی بجائے سرکار کو نوازنے کے لئے دینا چاہتی ہے اور ضلع کونسل کو ختم کرکے بیوروکریسی کے ذریعے انتظامی امور کو چلانا چاہتی ہے، ایوانوں میں بیٹھے عوامی نمائندوں کو عوام سے لئے گئے مینڈیٹ کی پاسداری کرنی چاہیئے ورنہ ا عوام کی طرف سے مسترد کئے جانے کے پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں جے یو آئی ملتان کی ضلعی مجلس شوری کے اراکین سے صدارتی خطاب میں کیا۔
جے یوآئی صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی،عوامی اور جمہوری جماعت بھی ہے جس کا پارلیمان میں تاریخی کردار ہے اسی لئے حکومت ہمارے صبر کاامتحان نہ لے اور ہمارے صبر کوکمزوری نہ سمجھا جائے حکومت جس طرح آئمہ مساجد پر چند ٹکوں کے عوض دبا ڈال کر بادشاہانہ غیر مناسب رویہ اختیار کر رہی ہے اور آئمہ مساجد کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور 39 سوالات پر مشتمل ڈیٹا فارم کے زریعے بے گناہ علما کرام کو ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے اس کی ملکی تاریخ میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی، ہم حکومتی دبا کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔