پنجاب میں ون ڈش پر عملدرآمد اور غیر قانونی لاؤڈ اسپیکر کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ون ڈش کی خلاف ورزی اور لاؤڈ اسپیکر کے غیر ضروری استعمال کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ شادیوں سمیت تمام تقریبات میں ون ڈش کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے اپنی ہدایات میں واضح کیا کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں بلند آہنگ میوزک سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ قانون کی خلاف ورزی ہے، جس پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:
انہوں نے متعلقہ اداروں کو قوالی نائٹ، محفلِ موسیقی اور دیگر تقریبات میں لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال پر قانونی ایکشن لینے کا حکم دیا ہے تاکہ شہریوں کو بلاوجہ شور اور بد نظمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مریم نواز شریف نے اس امر پر بھی زور دیا کہ صرف شادی ہال ہی نہیں بلکہ فارم ہاؤسز اور مختلف گراؤنڈز میں منعقد ہونے والی تقریبات میں بھی لاؤڈ اسپیکر کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مقامات اکثر قانون سے بالاتر سمجھ کر استعمال کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں:
اجلاس میں اس بات کا اصولی فیصلہ کیا گیا کہ فارم ہاؤسز اور گراؤنڈز میں بھی ون ڈش پابندی سختی سے نافذ کی جائے گی اور اس حوالے سے کسی مقام کو استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ میرج ہالز کے مقررہ اوقاتِ کار پر عملدرآمد کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں ہال انتظامیہ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
مزید یہ ہدایت بھی جاری کی گئی ہے کہ ون ڈش اور لاؤڈ اسپیکر قوانین کی خلاف ورزی پر سرکاری افسران کسی شادی یا تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔
مزید پڑھیں:
حکومت کا مؤقف ہے کہ سرکاری افسران کی جانب سے ایسی تقریبات میں شرکت سے غلط پیغام جاتا ہے اور قانون پر عملدرآمد متاثر ہوتا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے بھر میں نظم و ضبط کو بہتر بنانا، عوام کو غیر ضروری شور کی آلودگی سے بچانا اور فضول خرچی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ یہ کریک ڈاؤن مؤثر اور مسلسل ہو، تاکہ قوانین کو عملی شکل میں نافذ کرکے معاشرتی بہتری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب شادی ہال قانون کریک ڈاؤن کمشنر لاؤڈاسپیکر مریم نواز میوزک وزیر اعلی ون ڈش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شادی ہال کریک ڈاؤن لاؤڈاسپیکر مریم نواز میوزک وزیر اعلی کی خلاف ورزی لاؤڈ اسپیکر تقریبات میں کریک ڈاؤن کی جائے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی