اقوام متحدہ اپنی افادیت کھو چکی ہے، ملک محمد احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
لاہور میں تقریب سے خطاب میں سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ لوگوں نے سوچا ایسا ادارہ ہو جو ان کے مسائل حل کرے تو اقوام متحدہ بنی، کشمیر کا منفرد مسئلہ ہے، وہ بھی اقوام متحدہ کے پاس ہے۔ جو بات انسانیت کیخلاف اور انسانوں کے قتل کی ہو تو میں اس کیخلاف ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں کہ لوگ غزہ میں کس مصیبت سے گزر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو مسلسل سیاسی دباؤ میں ہیں ان کی نشوونما کیسے ہوگی، اگر ہم عوام کی رائے کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ بہت سے ممالک میں بڑے مظاہرے ہوتے ہیں لیکن وہ حکومت کو نہیں ہلاتے۔ لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں انسانی حقوق کانفرنس سے خطاب میں سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ کون سے انسانی حقوق ہیں اور کونسی اقوام متحدہ ہے، اقوام متحدہ اپنی افادیت کھو چکی ہے، جنگوں میں انسانی حقوق پامال ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے سوچا ایسا ادارہ ہو جو ان کے مسائل حل کرے تو اقوام متحدہ بنی، کشمیر کا منفرد مسئلہ ہے، وہ بھی اقوام متحدہ کے پاس ہے۔ جو بات انسانیت کیخلاف اور انسانوں کے قتل کی ہو تو میں اس کیخلاف ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں کہ لوگ غزہ میں کس مصیبت سے گزر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔