سی ٹی ڈی پنجاب کی بڑی کارروائی، لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور سے را سے منسلک 12 دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ پنجاب نے بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور سے بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے تعلق کے الزام میں 12 دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارودی مواد اور ڈیٹونیٹرز برآمد کیے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق گرفتار دہشتگرد حساس مقامات اور اداروں کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے میں ملوث تھے۔ ملزمان کے قبضے سے ایک مدرسے اور ایک میلے کی تصاویر، ویڈیو فوٹیج اور مکمل لوکیشن بھی برآمد ہوئی ہے جو ممکنہ دہشتگردی کی منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ لاہور سے گرفتار ہونے والے دہشتگردوں میں سکھ دیپ سنگھ، عظمت، فیضان، نبیل، ابرار، عثمان اور سرفراز شامل ہیں۔ یہ تمام ملزمان مختلف شہروں میں نیٹ ورک کے ذریعے کارروائیوں کی تیاری کر رہے تھے۔
فیصل آباد سے گرفتار دہشتگرد دانش جبکہ بہاولپور سے گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں میں رجب، ہاشم، ثاقب اور عارف شامل ہیں۔ سی ٹی ڈی کے مطابق یہ گروہ منظم انداز میں کام کر رہا تھا اور بیرونی ہدایات پر سرگرم تھا۔
ترجمان کے مطابق بھارت سے آپریٹ ہونے والی عادل نامی فیس بک آئی ڈی کے ذریعے دہشتگردوں کا سراغ لگایا گیا۔ گرفتار دہشتگرد سکھ دیپ سنگھ پیدائشی طور پر مسیحی تھا جس نے کچھ عرصہ قبل اپنا مذہب تبدیل کیا تھا۔
سی ٹی ڈی پنجاب کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے بھاری فنڈنگ بھی فراہم کی جا رہی تھی۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔