ملک میں مہنگائی میں کمی کی رپورٹ پر پاکستان سٹاک ایکسچینج نے کاروبار کا مثبت زون میں آغاز کیا اور سرمایہ کاروں نے حصص کے لین دین میں دلچسپی دکھائی۔کے ایس ای 100 انڈیکس میں 935.38 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 168,997 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو پچھلی بندش 168,062.19پوائنٹس کے مقابلے میں 0.56 فیصد بہتری ظاہر کرتا ہے۔واضح رہے کہ کاروبارِ حصص کے دوران 100 انڈیکس آج 169,289.

21 پوائنٹس تک بھی گیا مگر کچھ دیر تیزی میں کمی آ گئی۔نومبر 2025 کے لیے پاکستان کی بنیادی مہنگائی معمولی کمی کے ساتھ 6.24 فیصد سے گھٹ کر 6.15 فیصد ہوگئی، سال کے اختتام کے قریب یہ کمی سرمایہ کاروں کے لیے قیمتوں کے دباؤ میں کمی کا مثبت اشارہ سمجھی گئی۔ایک روز قبل بھی بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی، جو 1,384.50 پوائنٹس بڑھ کر 168,062.19 پوائنٹس پر بند ہوا، جو گزشتہ تجارتی سیشن کے 166,677.70 پوائنٹس کے مقابلے میں 0.83 فیصد مثبت تبدیلی تھی۔ریڈی مارکیٹ میں 735.52 ملین شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 46.18 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سیشن کے 592.74 ملین شیئرز اور 41.96 ارب روپے مالیت سے زیادہ تھی، مارکیٹ کیپٹلائزیشن بھی بڑھ کر 18.866 ٹریلین روپے سے 19.032 ٹریلین روپے ہوگئی۔گزشتہ روز سٹاک مارکیٹ میں 484 فعال کمپنیوں میں سے 278 کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 162 میں کمی جبکہ 44 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا