علی پور: ریپ کا شکار طالبہ حاملہ ہوگئی، پرنسپل سمیت 4 افراد کیخلاف درج
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے نجی تعلیمی ادارے میں طالبہ سے زیادتی کا مقدمہ تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ طالبہ کا بتانا کہ اسکول پرنسپل نے 3 ماہ قبل اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ طالبہ کے دیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ مختلف اوقات میں اسکول مالک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ 3 ماہ کی حاملہ ہے۔
پولیس کے مطابق طالبہ کے بیان کے بعد تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپےمارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زیادتی کا
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔