مبینہ جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
لاہور ہائی کورٹ میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مبینہ جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے خلاف 4 وکلا کی جانب سے مشترکہ عوامی مفاد کی پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست گزار وکلا میاں داؤد، پرویز الٰہی، رائے عمران خان اور ندیم عباس ڈوگر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنوری 2025 میں سی سی ڈی کے قیام کے بعد سے قومی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پنجاب پولیس کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے متعدد واقعات کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سی سی ڈی بنائی، خواتین سے زیادتی کے واقعات کا فیصلہ 24 گھنٹے میں ہوتا ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز
واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک تقریباً 1,100 شہری پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ سی سی ڈی نے معاشرے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے، اور ایسا تاثر عام ہے کہ پولیس کسی بھی شخص کو پہلے سے درج مقدمات میں جعلی ضمنی بیانات شامل کرکے مجرم قرار دے کر مار سکتی ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس بارہا پولیس کے جعلی مقابلوں کو غیرقانونی اور آئین کے خلاف قرار دے چکی ہیں، لیکن ان مقابلوں کو فوجداری نظامِ انصاف کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
وکلا نے نوجوان وکیل ذیشان دھڈّی کے ویہاڑی میں گھر پر پولیس کے ہاتھوں قتل کو جعلی مقابلوں کی تازہ اور شرمناک مثال قرار دیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ کَسٹوڈیل ڈیتھ (روک تھام اور سزا) ایکٹ 2022 ایسے ہی واقعات کی روک تھام کے لیے منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت ایف آئی اے کو ہر حراستی موت کی 30 دن میں انکوائری کرنا لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سربراہ سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کی برطرفی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
تاہم عدالت کے متعدد احکامات کے باوجود آج تک کسی ایک بھی حراستی موت کی ایف آئی اے نے انکوائری نہیں کی۔
پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب میں تمام پولیس مقابلوں کو فوری طور پر روکا جائے اور سی سی ڈی کے قیام کے بعد ہونے والے تمام پولیس مقابلوں کی ایف آئی اے سے تحقیقات کروانے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں پنجاب حکومت، پنجاب پولیس، سی سی ڈی، ایف آئی اے اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
CCd police encounters punjab پولیس مقابلہ سی سی ڈی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس مقابلہ سی سی ڈی پولیس مقابلوں ایف آئی اے سی سی ڈی
پڑھیں:
مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں
بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔
اعتماد میں کمی کا خدشہماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا
رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔
حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گےماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنججیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت