کراچی: فلیٹ میں مردہ ملنے والی ماں بیٹی، بہو کا پوسٹ مارٹم مکمل، بیٹے، گھرکےسربراہ کاکردارمشکوک قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
گلشن اقبال میں رہائشی اپارٹمنٹ کے فلیٹ سے ماں بیٹی اوربہوکی پراسرارہلاکتوں اور بیٹے کا بیہوشی کی حالت میں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، ہلاک تینوں خواتین کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گلشن اقبال بلاک ون میں واقع رہائشی اپارٹمنٹ کے فلیٹ سے ماں بیٹی اوربہوکی پراسرارہلاکتوں کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
رات گئے ہلاک ماں بیٹی اور بہنوکا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا جس کے بعد تینوں لاشیں چھیپا ویلفیئر کےسرد خانے منتقل کردی گئیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹرسمیعہ طارق کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران خون سمیت مختلف اعضاء سے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں حاصل کیے جانے والے نمونوں کو لیباٹری بھجوادیا گیا ہے اموات کی اصل وجہ فل الحال ریزرورکھی گئی ہے۔
لیباٹری رپورٹس آنے کے بعد اصل وجہ موت کا تعین ہوکا، بظاہر تینوں لاشوں پرتشدد کا کوئی نشان نہیں ہے۔
دوسری جانب پولیس نے واقعے کا مقدمہ قتل کی دفعہ کے تحت سرکار مدعیت میں درج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بے ہوشی کی حالت میں ملنے والے بیٹے اور گھرکے سربراہ کا کردارمشکوک پایا گیا ہے۔
خواتین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرواکرنمونے فارنزک جانچ کے لئے بھیج دئیے ہیں پولیس کی ٹیمیں فارنزک ایکسپرٹس کے ہمراہ ایک بار پھر فلیٹ کا دورہ کریں گی۔
فلیٹ سےبے ہوشی کی حالت میں ملنے والے نوجوان یاسین کی حالت بھی خطرے سے باہر ہے تاہم نوجوان بیان دینے کے قابل نہیں ہے۔
گھر کے سربراہ اقبال کا ابتدائی بیان قلمبند کرلیا ہے جس میں کئی شکوک و شبہات ہیں، پولیس حکام کے مطابق فلیٹ میں بہوماہا کی ہلاکت تقریباً 72 قبل ہوچکی تھی مگرکسی نے پولیس یا رشتےد اروں کواطلاع نہیں دی، سب سے آخرمیں گذشتہ روزبیٹی ثمرین کی موت واقع ہوئی۔
شبہ ہے کہ زہریلی دوا کھانے یا پینے سے خواتین کی اموات ہوئیں،حتمی وجہ کیمکل ایگزامن رپورٹ آنے پرمعلوم ہوگی۔
پولیس حکام کے مطابق گھر کا سربراہ اقبال اسی فلیٹ میں رہائش پذیر تھا اورگھر کے سربراہ اقبال نے اپنی بہن زرینہ کوفون کرکے اموات کے بارے میں بتایا، اقبال نے اپنی بہن کو واقعہ کے تین روز بعد فون کرکے بتایااطلاع ملنے پر زرینہ نے اپنے بھائی اسلم کو آگاہ کیا۔
اسلم نے فلیٹ پرپہنچ کر 15 مددگار پر کال کی، پولیس کے پہنچنے پرگھر کا دروازے کھلوایا گیا، تینوں خواتین کی لاشیں مختلف کمروں سے بیڈ سے ملیں تھیں اور ایسا محسوس ہوا کہ تینوں خواتین کی موت سوتے ہوئے ہوئی۔
گھر کے سربراہ کے مطابق ان کی بہو مبینہ طور پرحاملہ تھی اوراس کا میکا اسلام آباد میں ہے مذکورہ فیملی چند روز قبل ہی رہائشی اپاٹمنٹ میں منتقل ہوئی تھی، اس سے قبل مذکورہ فیملی رنچھوڑلائن میں مقیم تھی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اورپولیس رہائشی عمارت کے مکینوں اور چوکیداروں کے بیانات قلمبند کریگی۔
واضح رہے کہ اتوارکی شام رہائشی فلیٹ سے52 سالہ ثمینہ اس کی بیٹی19سالہ ثمرین اور22 سالہ بہوماہا کی لاشیں اوربیٹا30سالہ یاسین بہیوشی کی حالت میں ملا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا پوسٹ مارٹم کی حالت میں پولیس حکام خواتین کی کے سربراہ ماں بیٹی کے مطابق فلیٹ سے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک