مبینہ زیادتی کے ملزم پولیس سپاہی کے حق میں فیصلہ آنے پر خاتون نے خود کو آگ لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پنجاب کے ضلع قصور میں ایک خاتون نے خود کو آگ لگا کر خود کشی کرنے کی کوشش کی، جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق سال 2022 میں نواحی گاؤں بگے کے رہائشی جاوید اقبال نے اپنی 25 سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ درج کروایا۔ جس کی بنیاد پر پولیس نے ملزم رفیق کو گنہگار قرار دے کر نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں: کراچی: باپ کی بچوں کے ہمراہ خود کشی، وجہ سامنے آگئی
آج عدالت نے ڈی این اے میچ نہ ہونے پر کانسٹیبل رفیق کو مقدمے میں بری کرنے کا حکم دیا، جس پر متاثرہ خاتون نے اپیل میں جانے کے بجائے خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ خاتون کو زخمی حالت میں علاج کے لیے جناح اسپتال لاہور منتقل کردیا گیا۔
قصور میں خاتون نے زیادتی کے ملزم پولیس اہلکار کو بری کرنے پر خود کو آگ لگا لی۔ ملزم رفیق نے 2022 میں لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا pic.
— Muhammad Umair (@MohUmair87) December 6, 2025
ڈی پی او محمد عیسیٰ نے ایس پی انویسٹی گیشن کو معاملے کی فوری انکوائری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ناقص تفتیش یا تفتیشی آفیسر کی کسی بھی مقام پر ملی بھگت پائی گئی تو محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مذکورہ خاتون کے شوہر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اہلیہ نے پولیس کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا، انصاف نہ ملنے پر خود کو آگ لگائی۔
دوسری جانب پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے 2022 میں پولیس کانسٹیبل رفیق کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرایا تھا، جس پر محکمے نے ملزم رفیق کو نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔
ترجمان پولیس کے مطابق عدالت نے آج ڈی این اے میچ نہ ہونے پر ملزم کانسٹیبل رفیق کو مقدمے سے بری کردیا، جس پر متاثرہ خاتون نے اپیل میں جانے کی بجائے خود پر پیٹرول چھڑک کر خودکشی کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: ’خود کشی کے خیال آتے تھے‘ طلاق کے بعد اے آر رحمان پہلی بار منظرِ عام پر
پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ ڈی پی او محمد عیسیٰ خان نے ایس پی انویسٹی گیشن کو انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں، اگر واقعے میں تفتیشی افسر کی ملی بھگت پائی گئی تو محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آگ لگا دی پولیس سپاہی پیٹرول خودکشی کی کوشش زیادتی کیس عدالتی فیصلہ قصور وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا گ لگا دی پولیس سپاہی پیٹرول خودکشی کی کوشش زیادتی کیس عدالتی فیصلہ وی نیوز خاتون نے رفیق کو ا گ لگا خود کو
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔