اعلیٰ عدلیہ میں نئی تقرریوں پر جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا ایک نہایت اہم اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں اعلیٰ عدلیہ میں مستقل ججوں کی تقرری سے متعلق اہم معاملات پر غور کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ سمیت صوبائی ہائیکورٹس میں مختلف عہدوں پر مستقل ذمہ داریاں دینے کا مرحلہ زیر بحث تھا۔ آج ہونے والے اس اجلاس سے توقع کی جا رہی ہے کہ کئی اہم مناصب پر پیش رفت سامنے آئے گی، جس سے عدالتی ڈھانچے میں جاری خلا بھی پر ہو سکے گا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی سب سے نمایاں ایجنڈا ہوگا۔ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اس بات کا جائزہ لے گا کہ موجودہ عدالتی ضروریات اور مقدمات کے بڑھتے بوجھ کے پیش نظر کس نام کو سپریم کورٹ کا مستقل حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا نام نہایت سنجیدگی کے ساتھ زیر غور ہے۔
اجلاس صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ صوبائی عدلیہ سے متعلق معاملات بھی آج کی نشست کا حصہ ہیں۔ خاص طور پر سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹسز کی تعیناتی کا مرحلہ اس اجلاس میں زیر بحث آئے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر دونوں ہائیکورٹس میں پہلے تین سینئر ججز کے نام پر غور کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔