data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا ایک نہایت اہم اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں اعلیٰ عدلیہ میں مستقل ججوں کی تقرری سے متعلق اہم معاملات پر غور کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ سمیت صوبائی ہائیکورٹس میں مختلف عہدوں پر مستقل ذمہ داریاں دینے کا مرحلہ زیر بحث تھا۔ آج ہونے والے اس اجلاس سے توقع کی جا رہی ہے کہ کئی اہم مناصب پر پیش رفت سامنے آئے گی، جس سے عدالتی ڈھانچے میں جاری خلا بھی پر ہو سکے گا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی سب سے نمایاں ایجنڈا ہوگا۔ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اس بات کا جائزہ لے گا کہ موجودہ عدالتی ضروریات اور مقدمات کے بڑھتے بوجھ کے پیش نظر کس نام کو سپریم کورٹ کا مستقل حصہ بنایا جانا چاہیے۔  اس حوالے سے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا نام نہایت سنجیدگی کے ساتھ زیر غور ہے۔

اجلاس صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ صوبائی عدلیہ سے متعلق معاملات بھی آج کی نشست کا حصہ ہیں۔ خاص طور پر سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹسز کی تعیناتی کا مرحلہ اس اجلاس میں زیر بحث آئے گا۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر دونوں ہائیکورٹس میں پہلے تین سینئر ججز کے نام پر غور کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت