یو اے ای: حکام نے کئی سال قبل بچھڑی ہوئی ماں کو بیٹے سے ملا دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی: اماراتی حکام نے 12 برس قبل بچھڑی ہوئی ماں کو بیٹے سے ملا دیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق شارجہ کی اعلیٰ انتظامیہ کے سماجی خدمتی ادارے نے اپنی انتھک جد و جہد سے 12 سال قبل بچھڑی ہوئی ماں کو بیٹے سے ملا دیا۔عرب نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گھریلونا چاقی کی وجہ سے ماں بیٹے سے جدا ہوگئی تھی۔ مذکورہ واقعہ2013ءمیں ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب میاں بیوی میں اختلاف کے باعث علحدگی ہوگئی اور خاتون اپنے ملک روانہ ہوگئی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ طویل دوری اور بے خبری کے بعد خاتون ا پنے بچے سے ملاقات کے لیے شارجہ واپس لوٹی کہ کسی طرح لاپتا بیٹے سے ملے اور اسے دیکھے، اس کا حال احوال دریافت کرے۔ شارجہ انتظامیہ کے شعبہ سماجی خدمت کے اہلکاروں نے شب و روز کی کوشش و لگن کے بعد بالاخر اس لڑکے کا سراغ لگانے میں کامیابی حاصل کرلی اور ماں سے ملوادیا۔ اس موقع پرماں بیٹے میں رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیٹے سے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔