پاکستان فِن ٹیک کا نیا پاور ہاؤس بننے لگا، ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن ادائیگیوں میں تیز رفتار ترقی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
جنوبی ایشیا میں فِن ٹیک کا شعبہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب یہ ترقی صرف بھارت تک محدود نہیں رہی۔
فوربس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، خصوصاً ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن ادائیگیوں کے سیکٹر میں تیز رفتار ترقی جاری ہے۔
بھارت کئی برسوں سے خطے میں فِن ٹیک کا بڑا مرکز رہا ہے، تاہم اب اس کے پڑوسی ممالک بھی جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سنجیدہ ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش، جو دنیا کی سب سے بڑی ’اَن بینکڈ‘ آبادی رکھتے ہیں، تیزی سے ڈیجیٹل بینکنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ نیپال میں بھی ترقی کی رفتار بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جنوبی ایشیا کا "سوتا ہوا فِن ٹیک جائنٹ" قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں فِن ٹیک اسٹارٹ اپس کی سرمایہ کاری 2019 میں صرف 10.
گزشتہ دو سالوں میں صورتحال بہتر ہوئی ہے اور فنڈنگ میں واضح بحالی دیکھنے میں آئی ہے۔ 2024 میں سرمایہ کاری بڑھ کر 26.3 ملین ڈالر اور 2025 کے پہلے چھ ماہ میں 52.5 ملین ڈالر ہوگئی۔ نومبر 2025 تک پاکستان کی 450 سے زائد فِن ٹیک کمپنیوں نے مجموعی طور پر 391 ملین ڈالر کی وی سی فنڈنگ حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیائی مارکیٹ میں ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کے لیے مواقع وسیع ہیں کیونکہ یہاں صارفین کی حقیقی ضرورت موجود ہے، پالیسی ساز تعاون کر رہے ہیں اور روایتی بینک ڈیجیٹل مقابلے کی صلاحیت رکھنے میں پیچھے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل بینکنگ ملین ڈالر ف ن ٹیک
پڑھیں:
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔