نادرا کا آگاہی سیمینار، ایپلی کیشن Pak-ID پر تفصیلی بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) پاکستان میں عوامی خدمات کی بتدریج ڈیجیٹلائزیشن کے تناظر میںنادرا کے حکام نے رفاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا سائنسز (RIMS) میں منعقدہ ایک آگاہی سیمینار کے دوران ڈیجیٹل شناختی نظام کی اہمیت اور افادیت پر زور دیا۔ رفاہ یونیورسٹی، اسلام آباد میں منعقدہ اس سیشن میں نادرا کی فلیگ شپ موبائل ایپلی کیشن Pak-ID پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ ایپ روایتی کاغذی کارروائی اور طویل قطاروں کے نظام کو بتدریج موبائل اسکرین پر منتقل کر رہی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا علی بٹ نے اپنی گفتگو میں 2000 میں ادارے کے قیام سے لے کر اب تک کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نادرا کا بنیادی مقصد شہریوں کی محفوظ شناخت کو یقینی بنانا اور دستاویزی جعل سازی کی روک تھام ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک آئی ڈی ایپ اسی وژن کی عملی توسیع ہے۔’’نہ قطار، نہ انتظار، تمام سہولیات آپ کے فون پر‘‘ کے سلوگن کے تحت متعارف کرائی گئی اس ایپ کا مقصد شہریوں کو بنیادی دستاویزی خدمات کیلیے نادرا دفاتر کے چکر لگانے سے بچانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔