data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف کے کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا۔منگل کو الیکشن کمیشن میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق خلاف ورزی اور الیکشن عملے کو دھمکانے سے متعلق کیس کی چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزار بابر نواز کے وکیل سجیل سواتی اور سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری پیش ہوئے۔ وکیل سجیل سواتی نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب کا شیڈول 8 اکتوبر 2025 کو جاری ہوا اور انتخابی شیڈول سے کامیابی کے نوٹیفکیشن تک تمام معاملات الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب سے چار روز قبل 19 نومبر 2025 کو وزیراعلیٰ نے چمبہ (ہری پور اور ایبٹ آباد بارڈر پر) میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا اور 23 نومبر کو امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمر ایوب کا مقابلہ ان کی اہلیہ سے ہے اور اہلیہ زیادہ ووٹ لیں گی۔ وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے پولیس اور انتظامیہ کو پیغام دیا کہ اگر 23 نومبر کو بدمعاشی ہوئی یا ووٹ تبدیل کیے گئے تو صبح کی روشنی اور رات کا اندھیرا نہیں دیکھیں گے۔ وکیل نے کہا کہ یہ دھمکی آمیز بیان الیکشن عملے اور ووٹروں پر دباؤ تھا، آئین، الیکشن ایکٹ اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعلیٰ نے انتخابی مہم میں حصہ لیا جو آئین کے تحت ممنوع ہے، اور حلف کی بھی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے آرٹیکل 218(3)، 233 اور 234 کا حوالہ دیا کہ الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات ہیں۔ اگر سہیل آفریدی کو چھوڑ دیا گیا تو غلط مثال قائم ہوگی، سماعت میں مزید دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن سہیل ا فریدی ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن