پاکستان اور نمیبیا کا اہم میچ؛ کولمبو میں موسم کیسا رہے گا؟بارش کے کتنے امکانات ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور نمیبیا کے درمیان کھیلے جانے والے اہم میچ پر بارش کے سائے منڈلانے لگے۔
گروپ اے میں پاکستان قومی کرکٹ ٹیم اپنا آخری گروپ میچ نمیبیا کے خلاف کھیلے گی جو سپر ایٹ مرحلے تک رسائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
بھارت کے خلاف 61 رنز کی بدترین شکست کے بعد پاکستان کے لیے یہ مقابلہ فیصلہ کن بن گیا ہے اور قومی ٹیم کو اگلے مرحلے میں جگہ یقینی بنانے کے لیے نمیبیا کے خلاف کامیابی درکار ہے۔
رپورٹس کے مطابق میچ کے میزبان شہر کولمبو میں بارش کا واضح امکان ظاہر کیا گیا ہے جس سے میچ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیںنمیبیا کے خلاف اہم میچ، قومی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
ٹی 20 ورلڈ کپ: امریکا نے نمیبیا کو 31 رنز سے شکست دے دی
موسمی پیش گوئی کے مطابق کولمبو میں 50 سے 60 فیصد تک بارش متوقع ہے جبکہ موسم ابر آلود رہے گا۔ اس کے علاوہ تقریباً 19 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے ۔
پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان اس وقت تین میچز میں دو فتوحات اور ایک شکست کے ساتھ گروپ اے میں تیسرے نمبر پر موجود ہے جبکہ اس کا نیٹ رن ریٹ منفی 0.
دوسری جانب اگر خدانخواستہ پاکستان کو نمیبیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو امریکا چار پوائنٹس اور بہتر نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر اگلے مرحلے میں جگہ بنا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نمیبیا کے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔