سہیل آفریدی کیخلاف الیکشن کمیشن عملے کو دھمکیاں دینے کے کیس کا فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
الیکشن کمیشن کے نوٹس اور بابر نواز کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی۔ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری اور درخواست گزار بابر نواز کے وکیل سجیل سواتی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور انتخابی عملے کو دھمکیاں دینے کے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ الیکشن کمیشن کے نوٹس اور بابر نواز کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی۔ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری اور درخواست گزار بابر نواز کے وکیل سجیل سواتی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ کمیشن میں درخواست گزار بابر نواز کے وکیل سجیل سواتی، الیکشن کمیشن کے وکیل خرم شہزاد اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیے جس کے بعد فیصلہ محفوظ ہوا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل خرم شہزاد نے دلائل میں کہا کہ ضمنی انتخاب کیلئے ضلعی انتظامیہ اور افسران الیکشن کمیشن کے ماتحت تھے، الیکشن عملہ کو دھمکانے کا مطلب الیکشن کمیشن کو دھمکانا ہے، عدلیہ نے بھی یہ قرار دیا کہ الیکشن عملہ کا تحفظ کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
وکیل کمیشن نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف کرپٹ پریکٹسز کی کارروائی ہو سکتی ہے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی رکنیت کو فوری طور پر معطل کیا جا سکتا ہے، سہیل آفریدی کے خلاف فیصلے کی صورت میں نا اہلی ہو سکتی ہے۔ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ کمیشن نے کبھی پی ٹی آئی کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، اگر کارروائی کرنی ہے تو میری وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف درخواست پر بھی کی جاتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے وکیل علی بخاری الیکشن کمیشن کے سہیل آفریدی کے بابر نواز کے خلاف
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔