رمضان میں ذخیرہ اندوزی، خود ساختہ نرخ قبول نہیں، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی اور خود ساختہ نرخ کسی صورت قبول نہیں۔
رمضان المبارک کی تیاریوں سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ کو عوامی ریلیف اور اشیائے خور و نوش کی سرکاری نرخوں پر دستیابی کے پلان پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں 146 پرائس مانیٹرنگ ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں، پرائس کنٹرول کے لیے 161 اضافی پرائس کنٹرول مجسٹریٹس مقرر ہیں۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں پرائس مانیٹرنگ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے، رمضان المبارک میں صفائی ستھرائی یقینی بنانے کے لیے اضافی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔
بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنرز کو ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ رمضان المبارک میں عوام کو ہر صورت ریلیف دیا جائے، ماہ مقدس میں قیمتوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہے، پرائس کنٹرول ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور خود ساختہ نرخ کسی صورت قبول نہیں، فوڈ سیفٹی اور صاف خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہر ضلع میں احساس رمضان دسترخوان قائم کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام انٹری پوائنٹس پر مسافروں کے لیے احساس رمضان دسترخوان کا بندوبست کیا جائے، یتیم خانوں، دارالامان اور پناہ گاہوں میں سحری و افطاری کے لیے معیاری خوراک فراہم کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ احساس رمضان پیکیج کے تحت مستحق خاندانوں کو 12 ہزار 500 روپے دیے جا رہے ہیں، جس کی تقسیم آٹھویں روزے تک ہر صورت مکمل کی جائے۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ یتیموں، بیواؤں، مساکین اور خصوصی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر ریلیف دیا جائے، رمضان میں تمام سرکاری اسپتالوں میں ادویات اور ڈاکٹرز کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ روزے کی حالت میں کسی مریض کوعلاج کے لیے پریشان نہیں ہونا چاہیے، رمضان المبارک میں انتظامات کی خود نگرانی کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رمضان المبارک میں سہیل ا فریدی کے لیے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔