سعودی عرب میں رمضان کا چاند نظر آگیا؛ دیگر ممالک سے بھی اعلانات موصول
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
سعودی عرب میں رمضان کا چاند نظر آگیا؛ دیگر ممالک سے بھی اعلانات موصول WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2026 سب نیوز
جدہ(آئی پی ایس )سعودی عرب میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا کل 18 فروری بروز بدھ کو پہلا روزہ ہوگا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وسطی ایشیا کے چار ممالک آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا۔علاوہ ازیں انڈونیشیا، ملائیشیا اور برونائی نے بھی پہلا روزہ 19 فروری بروز جمعرات ہونے کا باضابطہ سرکاری سطح پر اعلان کیا ہے۔
ان ممالک کے سرکاری مذہبی اداروں نے اعلان کیا ہے کہ منگل کی شام چاند نظر نہ آنے کے باعث شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔اس طرح ان ممالک میں پہلا روزہ جمعرات کو رکھا جائے گا۔ اس طرح ان ممالک کا شمار بھی ان ریاستوں میں ہو گیا ہے جہاں رمضان المبارک 2026 کا آغاز ایک ہی دن، یعنی 19 فروری سے ہو رہا ہے۔جس سے عالمِ اسلام میں اس سال رمضان کے آغاز میں نمایاں حد تک یکسانیت نظر آ رہی ہے البتہ سعودی عرب میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا۔
مفتی اعظم ڈاکٹر ابراہیم ابو محمد کی سربراہی میں آسٹریلوی فتوی کونسل نے مشاورت کے بعد اعلان کیا کہ پہلا روزہ جمعرات 19 فروری 2026 کو ہوگا۔عمان اس وقت خلیج تعاون کونسل (GCC) کا پہلا ملک بن گیا جس نے رمضان کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔عمان کی مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے مطابق بدھ 18 فروری شعبان کا آخری دن ہوگا اور جمعرات 19 فروری کو پہلا روزہ رکھا جائے گا۔
مفتی کہلان بن نبہان الخروصی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ فیصلہ طویل عرصے سے رائج مذہبی اور سائنسی اصولوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔فرانس میں بھی فلکیاتی شواہد کی بنیاد پر اعلان کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک جمعرات 19 فروری سے ہی شروع ہوگا۔فرانس کی کونسل آف مسلم فیتھ کے مطابق نیا چاند 17 فروری کو پیرس کے وقت کے مطابق دن 1:01 بجے پیدا ہوا مگر اس کا نظر آنا ممکن نہیں تھا۔
اسی طرح ترکیہ کے مذہبی امور کے ادارے دیانت نے اعلان کیا کہ رمضان المبارک کا آغاز جمعرات 19 فروری سے ہوگا۔ادارے کے سربراہ صفی آرپاگوش کے مطابق بدھ کی شام پہلی تراویح ادا کی جائے گی۔سنگاپور میں اسلامی مذہبی کونسل نے فلکیاتی شواہد کی بنیاد پر تصدیق کی ہے کہ رمضان جمعرات 19 فروری سے شروع ہوگا۔
مفتی نذرالدین محمد ناصر کے مطابق 17 فروری کی شام چاند سورج سے پہلے غروب ہو گیا، اس لیے رویت ممکن نہیں تھی۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ابھی چاند کی رویت کا انتظار ہے۔ سرکاری اعلان کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ ملک میں پہلا روزہ بدھ کو ہوگا یا جمعرات کو ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی قیادت 9 فروری سے عمران خان کی آنکھوں میں تکلیف سے باخبرتھی، قیادت نے زیادہ اہمیت نہ دی پی ٹی آئی قیادت 9 فروری سے عمران خان کی آنکھوں میں تکلیف سے باخبرتھی، قیادت نے زیادہ اہمیت نہ دی سولہویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل، کیا بڑی پیشرفت اور قانون سازیں ہوئیں؟ سی ڈی اور نیشنل پریس کلب کے تحت شجر کاری مہم کا آغاز ،پودے لگائے گئے بی این پی سربراہ طارق رحمان حلف اٹھا کر بنگلا دیش کے وزیر اعظم بن گئے بی ایل اے علیحدگی پسند نہیں سنگین دہشت گرد تنظیم ہے: امریکی جریدہ پاکستان نے دہشتگردی کو سٹریٹجک جیت میں بدلنے سے روک دیا: ترک جریدہCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا چاند نظر آگیا
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔