سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں آج رمضان کا چاند دیکھنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں چاند دیکھنے کے حوالے سے باضابطہ تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آج بروز منگل آسمان کا بغور مشاہدہ کریں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ اپنی آنکھ یا دوربین کی مدد سے ہلال دیکھ لیں تو فوری طور پر قریبی عدالت یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ شہادت درج کی جا سکے۔
اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ چاند دیکھنے کی شہادت تحریری طور پر جمع کرائی جائے تاکہ رویتِ ہلال کے فیصلے میں سہولت ہو اور کسی قسم کی ابہام باقی نہ رہے۔ حکام کے مطابق عوامی گواہی کے ساتھ ساتھ ماہرین فلکیات کی آرا کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ سائنسی اور شرعی تقاضوں کے مطابق حتمی اعلان کیا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان سمیت دیگر عرب ریاستوں میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری رویتِ ہلال کمیٹیاں فعال ہو چکی ہیں۔ مختلف شہروں میں خصوصی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور چاند کی متوقع پیدائش اور غروبِ آفتاب کے اوقات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر آج ہلال دکھائی دے گیا تو نیا اسلامی مہینہ بدھ سے شروع ہو جائے گا، بصورت دیگر شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب کے اعلان کو دنیا کے کئی اسلامی ممالک میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ متعدد ممالک اپنے فیصلوں میں سعودی اعلان کو پیشِ نظر رکھتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر رمضان کے آغاز کے حوالے سے خاصی توجہ مرکوز رہتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی شہری چاند کی تصاویر شیئر کرنے کی تیاری میں ہیں اور ہر سال کی طرح اس بار بھی رویتِ ہلال کا معاملہ عوامی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔