کے الیکٹرک اور کانٹریکٹر کے درمیان ادائیگی کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، تنازع پھر عدالت میں پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
کے الیکٹرک اور کانٹریکٹر کے درمیان ادائیگی کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، تنازع ایک بار پھر عدالت میں پہنچ گیا۔
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے نیو جام صادق برج کی تعمیر کے دوران کے الیکٹرک کے انفراسٹرکچر کی منتقلی کے تنازعے سے متعلق درخواست پر تعمیرات کو گرانے سے روک دیا۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو نیو جام صادق برج کی تعمیر کے دوران کے الیکٹرک کے انفراسٹرکچر کی منتقلی کا تنازعہ سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
کے الیکٹرک کے وکیل بیرسٹر ایان میمن نے موقف دیا کہ کسی بھی منصوبے کی تعمیر سے قبل یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر کی منتقلی کی جاتی ہے۔
کے الیکٹرک اور کانٹریکٹر کے درمیان انفراسٹرکچر کی منتقلی کے لئے معاہدہ طے پایا تھا۔ کے الیکٹرک کے پول کو نقصان پہنچنے سے مہران ٹاؤن اور اطراف تین روز تک بجلی کی فراہمی معطل رہی، کانٹریکٹر کےچیک باؤنس ہوگئے ہیں۔
انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے سے انڈسٹریل ایریا و دیگر علاقے متاثر ہونگے۔ عدالت نے کے الیکٹرک کا انفراسٹرکچر محفوظ رکھتے ہوئے پرانی تعمیرات کو گرانے سے روک دیا، عدالت نے ڈی جی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو ریکارڈ کے ساتھ طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انفراسٹرکچر کی منتقلی کے الیکٹرک کے کانٹریکٹر کے
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔