Daily Mumtaz:
2026-06-03@06:40:10 GMT

ڈرامہ کیس نمبر 9 نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

ڈرامہ کیس نمبر 9 نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے

کراچی (شوبز ڈیسک) نجی ٹی وی کے ڈرامے کیس نمبر 9 نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی ۔

دوسری طرف اس ڈرامے کے چرچے بیرونی میڈیا پر بھی ہیں۔

ڈرامے کے مصنف نجی ٹی وی چینل کے معروف اینکر شاہ زیب خانزادہ ہیں جن کی تحریر اور جملوں نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں جب کہ اس ڈرامے نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ تے ہوئے نئی تاریخ رقم کردی ہے۔

ڈرامے کی بازگشت ممتاز برطانوی میڈیا پر نمایاں دکھائی دے رہی ہے جس نے اس ڈرامے کو خاصی اہمیت دیتے ہوئے ڈرامے کے بعض سین کو اپنی تفصیلی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں کیس نمبر 9 کا حوالہ
برطانوی خبررساں ادارے نے کیس نمبر 9 کا حوالہ دیتے ہوئے ڈرامے کے ان جملوں کو رپورٹ میں شامل کیا، برطانوی خبررساں ادارے کا کیس نمبر 9کا حوالہ درج ذیل ہے۔

’کیا اوقات ہے سحر کی کہ وہ مجھے انکار کرے، فلرٹ کرنے، غصہ کرنے اور ریپ کرنے میں فرق ہوتا ہے، سحر طلاق یافتہ ہیں، کنواری نہیں ہیں ، اس جملے پر سحر کی وکیل جواب دیتی ہیں کہ ملزم کامران اور اُن کے وکیل تمام طلاق یافتہ خواتین کے کردار پر سوال اٹھا رہے اور وہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جو عموماً متاثرہ خاتون کو ریپ کیسز میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں‘۔

یہ مناظر ریپ کے ایک کیس پر بننے والے ٹی وی ڈرامہ ’کیس نمبر 9‘ کے ہیں، نجی ٹی وی پر نشر ہونے والے اس ڈرامے میں ایک کمرہ عدالت میں ریپ کیس پر جرح ہو رہی ہے، ڈرامے میں متاثرہ خاتون سحر کی وکیل سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئی کہتی ہیں کہ ’متاثرہ شخص کے کردار یا کنواری ہونے یا نہ ہونے پر سوال اُٹھانے سے اس بات کا تعین نہیں ہوتا کہ اُس کا ریپ نہیں کیا گیا بلکہ ایسا کرنے سے ملزم کے بجائے ریپ سے متاثرہ شخص کا ہی ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔

اگر کسی انسان کا کئی لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق بھی ہو، تب بھی وہ ریپ کا مستحق نہیں ہوتا جس کے جواب میں ملزم کامران کے وکیل کہتے ہیں کہ یہاں ایک معصوم مرد پر ریپ جیسے گھناؤنے جرم کا الزام عائد کیا جا رہا ہے تو پھر سحر کے کردار پر سوال تو اٹھیں گے۔

ڈرامے میں کمرہ عدالت شاندار ضرور ہے لیکن جرح کے دوران ملزم کامران کے وکیلِ صفائی کے تمام سوالات، انداز اور اشارے وہی ہیں جو عموماً اصل زندگی میں متاثرہ خواتین کو کمرہ عدالت میں برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

اس ڈرامے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور بعض افراد نے اس ڈرامے کے ذریعے فراہم کی گئی معلومات کو اہم قرار دیا تو بعض کے خیال میں دورانِ جرح سخت سوالات کرنا پاکستان میں عدالتی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کیس نمبر 9 میڈیا پر ڈرامے کے کا حوالہ

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور