کراچی ایئرپورٹ سے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا معاملہ وفاقی محتسب تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
کراچی:
کراچی ایئرپورٹ سے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا معاملہ وفاقی محتسب تک پہنچ گیا۔
اوورسیزایمپلائمنٹ پروموٹر کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریری شکایت پر وفاقی محتسب نے 25 مسافروں کو آف لوڈ کئے جانے کی تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔ شکایت پر ڈی جی ایف آئی اے کو 15 دسمبر تک تحقیقاتی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شکایت میں کہا گیا کہ 5 نومبر کو ملازمت کے لئے ترکی جانے والے 25 مسافروں کو بلاجواز
پرواز سے آف لوڈ کیا گیا، تمام سفری دستاویزات کے باوجود پنجاب کے بجائے کراچی ائرپورٹ سے جانے پر ایف آئی اے نے زبانی اعتراض کیا۔
اوورسیزایمپلائمنٹ پروموٹر کا کہنا تھا کہ پروٹیکٹر آف امیگرانٹس کی کلئیرنس، فارن سروس ایگریمنٹ کی موجودگی کے باوجود مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا، آف لوڈ کئے جانے کی کوئی مہر نہیں لگائی گئی، کوئی رسید بھی جاری نہیں ہوئی، ایف آئی اے کی بلاجوازاور غیر قانونی کارروائی پر تحقیقات کرائی جائیں۔
ڈی جی ایف آئی اے نے ڈائریکٹر کراچی زون کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے جو ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز سے کمشنر تحفظات برائے اوورسیز پاکستانیز کے ذریعے وفاقی محتسب کو پیش کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسافروں کو آف لوڈ وفاقی محتسب ایف آئی اے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔