ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ہمایوں کبیر نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، جیسے ہی ہم نے بابری مسجد بنانے کی پہل کی، ایک گروپ رام مندر بنانے چلا گیا، ہم نے انہیں نہیں روکا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں آج ایک نئی "بابری مسجد" کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں شہید کی گئی بابری مسجد کے طرز پر اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے علاقے کی سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا۔ اس مسجد کو "ٹی ایم سی" سے معطل کئے گئے رکن اسمبلی ہمایوں کبیر بنانے جا رہے ہیں۔ آج کا دن اس لئے بھی کافی حساس ہے کیونکہ 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی شہادت کی سالگرہ ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے حکم کے بعد اب ایودھیا میں اس جگہ پر رام مندر کی تعمیر ہوچکی ہے۔

بابری مسجد کی بنیاد جس جگہ رکھی گئی ہے، اسے ریجی نگر میں چیتیانی کہتے ہیں۔ ابھی 7 بسوا (کٹھا) زمین پر بنیاد رکھی جا رہی ہے، بعد میں پاس میں ہی 25 بیگھہ زمین پر مسجد بنائی جائے  گی۔ حالانکہ ابھی مسجد کا کوئی بلوپرنٹ تیار نہیں ہوا ہے۔ اس میں 2 سے 3 ماہ لگیں گے۔ بابری مسجد کا سنگ بنیاد آج خود رکن اسمبلی ہمایوں کبیر نے رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس ساتھ ہے اور کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی روک لگانے سے انکار کردیا۔ سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اسٹیج پر موجود لوگوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، ہمایوں کے چہرے پر بھی مسکان تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی غیر آئینی کام نہیں کررہا ہوں۔

ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ہمایوں کبیر نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، جیسے ہی ہم نے بابری مسجد بنانے کی پہل کی، ایک گروپ رام مندر بنانے چلا گیا، ہم نے انہیں نہیں روکا۔ انہوں نے کہا کہ میرے سر پر ایک کروڑ روپئے کا انعام ہے، اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ اترپردیش یا مدھیہ پردیش سے آئے گا اور کہے گا کہ اینٹیں بجا دے گا تو میں کہتا ہوں کہ تم ہمایوں کبیر کا بال بھی بانکا نہیں کر پاؤ گے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد بنے گی، اسے کوئی نہیں روک سکتا، یہ مسلمانوں کے وقار کی لڑائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابری مسجد کے آس پاس صرف مسجد ہی نہیں اسپتال، اسکول، ہیلی پیڈ، پارک، ہوٹل سب کچھ بنے گا، جس کا کل بجٹ 300 کروڑ روپئے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا سنگ بنیاد ہمایوں کبیر انہوں نے مسجد کا کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی