بابری مسجد کی شہادت نے بھارت کے سیکولر دعوﺅں کی قلعی کھول دی تھی، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو جمعہ اور عید کی نماز کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے، بھارتی فورسز مساجد، مدارس پر چھاپے مار کر ان کی بے حرمتی کر رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ نے کہا ہے کہ 6 دسمبر بھارت کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ دن ہے جب 1992ء میں اس روز ہزاروں انتہا پسند ہندﺅں نے حکومتی سرپرستی میں تاریخی بابری مسجد شہید کر کے ملک کے سیکولر دعوﺅں کی قلعی کھول دی تھی۔ ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی اور سینئر رہنماﺅں محمد فاروق رحمانی، محمود احمد ساغر نے اسلام آباد سے جاری اپنے بیانات میں کہا کہ صدیوں پرانی تاریخی مسجد کا انہدام بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی شہادت کے دلخراش مناظر اب بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کی ذہنوں میں تازہ ہیں، مسجد کی شہادت کا یہ سانحہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو کس قدر عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور ریاستی جبر کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی ورثے کو مٹانے کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ تھا، مودی حکومت میں مساجد، زیارت گاہوں اور درگاہوں کو نشانہ بنانے کا یہ مذموم عمل مسلسل جاری ہے۔
حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماﺅں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی ہندوتوا بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی مسلمانوں کے دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں اور وہ علاقے کو مکمل طور پر ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو جمعہ اور عید کی نماز کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے، بھارتی فورسز مساجد، مدارس پر چھاپے مار کر ان کی بے حرمتی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا مساجد پر چھاپے، ان کی تاکہ بندی، لاﺅڈ سپیکروں کی ضبطگی مذہبی آزادی کی بدترین پامالی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق عالمی اداروں پر زور دیا کہ مسلمانوں کے خلاف منظم جبر، مذہی حقوق کی سلبی اور مقبوضہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف پامالیوں پر بھارت کا فوری محاسبہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حریت کانفرنس آزاد انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.