عمران خان نے پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی تحلیل کر دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے بدھ کو پارٹی کی 40 رکنی سیاسی کمیٹی تحلیل کر دی اور اس کی جگہ کم اراکین پر مشتمل نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے انفارمیشن سیکرٹری شیخ وقاص اکرم نے تصدیق کی کہ نئی کمیٹی میں صوبائی صدور، اپوزیشن لیڈرز اور چند دیگر رہنما شامل کیے جائیں گے۔
شیخ وقاص اکرم نے وضاحت کی کہ نئی کمیٹی میں غالب امکان ہے کہ پارٹی کے صوبائی صدور، اپوزیشن لیڈرز اور چند دیگر اراکین شامل ہوں گے۔
شاہد خٹک کو پارلیمانی لیڈر بنانے کی ہدایت
عمران خان نے قومی اسمبلی میں شاہد خٹک کو پارلیمانی لیڈر بنانے کی بھی ہدایت کی تاہم پارٹی اس فیصلے پر عمل ہونے کا امکان نہیں ہے بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں زرتاج گل کی نامزدگی بھی مؤثر نہ ہو سکی تھی۔
علاوہ ازیں انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو انصاف لائرز فورم کی ازسرِنو تنظیم کا اختیار بھی دے دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔