پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج: خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں پولیس افسران کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنی قانونی اور جغرافیائی حدود کے اندر رہ کر فرائض انجام دیں اور کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں۔
سیکیورٹی ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) شاکر حسین داوڑ نے صوبے کے تمام سینیئر افسران کو بھیجے گئے سرکاری سرکلر میں یاد دہانی کرائی کہ پولیس فورس کا ہر رکن غیرجانبدار رہنے کا پابند ہے اور کسی جماعت کے ساتھ سیاسی طور پر نہ جڑ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی جلوس یا ریلی جوائن کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پولیس سمیت سینکڑوں سرکاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی
ہدایات میں موجودہ قوانین کا اعادہ کیا گیا ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو کسی بھی سیاسی جانبداری سے منع کرتے ہیں۔ یہ ہدایات اُس وقت سامنے آئی ہیں جب وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کی جانب سے ریاستی مشینری کے سیاسی مقاصد کے لیے مبینہ استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب وفاقی سطح پر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اپنے ممکنہ احتجاج کے دوران صوبائی پولیس کو سیاسی استعمال میں لانے کی کوشش کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی احتجاج کے دوران فیک نیوز کی بھرمار، عالمی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف
واضح رہے کہ پی ٹی آئی 2 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان کر چکی ہے جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے اعلان کردہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس پی ٹی آئی احتجاج دفعہ 144.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس پی ٹی آئی احتجاج پی ٹی آئی
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔