ترکی اور فن لینڈ کے صدور کی ٹیلیفونک گفتگو، باہمی تعلقات اور عالمی امن پر زور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کے درمیان بدھ کو اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، علاقائی استحکام اور عالمی امن کی کوششوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال گہری سفارتی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ترک صدر نے گفتگو کے دوران اس عزم کا اظہار کیا کہ انقرہ ہیلسنکی کے ساتھ تجارتی حجم میں خاطرخواہ اضافہ چاہتا ہے اور مستقبل میں ایسے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جو معاشی روابط کو مزید مضبوط بنائیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں وسعت خطے کے لیے بھی مثبت اثرات کا باعث بنے گی۔
ایردوان نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اس امن عمل کی کامیاب تکمیل کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، استنبول میں ہونے والے مذاکرات پہلے ہی اپنی مؤثر سفارتی حیثیت ثابت کر چکے ہیں اور عالمی سطح پر انہیں ایک کامیاب سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
گفتگو کے دوران ترک صدر نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی جنگ بندی کے نفاذ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے، خطے میں دیرپا امن صرف دو ریاستی حل کی بنیاد پر ہی ممکن ہے، فن لینڈ کی جانب سے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیے جانے کا فیصلہ ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہوگی۔
ایردوان نے فن لینڈ کے یومِ آزادی کے موقع پر صدر اسٹب کو مبارکباد بھی دی، جو 6 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فن لینڈ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔