اسلام آباد صوبوں سے اختیارات واپس لینا چاہتا ہے، ہم اپنے حقوق کا دفاع کریں گے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم اور صوبائی حقوق کا دفاع آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ انہی اختیارات کے تحت صوبوں میں صحت اور عوامی فلاح کے بڑے منصوبے ممکن ہوسکے ہیں۔
ایس آئی یو ٹی کے نئے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسلام آباد چاہتا ہے کہ صوبوں کا تعلیم اور آبادی کنٹرول کا اختیار واپس لے لیا جائے، اور جب آپ کسی سے اختیار واپس لیتے ہیں تو اس کے اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پاس ہوچکی، 28ویں ترمیم کی بات کریں، سینیٹر فیصل واوڈا کا دعویٰ
انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم ہی صحت کا شعبہ چلانے کے لیے بہترین راستہ ہے اور ہم اپنے حقوق کا دفاع کریں گے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فائیو اسٹار ہوٹل کو فائیو اسٹار اسپتال میں تبدیل کرنا قابل تحسین قدم ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں دنیا کا سب سے بڑا دل کے اسپتال کا نیٹ ورک موجود ہے اور پیپلز پارٹی ہمیشہ پسماندہ طبقے کی خدمت کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کل صوبوں کے حقوق اور وسائل پر کافی بحث چل رہی ہے مگر صوبوں کے حقوق پر بحث کا سب سے بہترین جواب سندھ کا ہیلتھ سسٹم ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد این آئی سی وی ڈی کی حالت دیکھیں، فرق صاف نظر آئے گا اور ترمیم کے بعد سندھ حکومت کے ادارے بہتر ہوئے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں یہ منصوبہ صرف حکومت کی ذمہ داری کے تحت مکمل ہوگا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور ڈاکٹر ادیب رضوی کے تعاون سے منصوبہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ این ایم کو فائیو اسٹار ہیلتھ فیسلٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں 100 فیصد مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ سندھ حکومت کے ہیلتھ سیکٹر کا یہ پروگرام عوامی حقوق اور وسائل کے لیے سب سے بہترین جواب ہے۔
انہوں نے کہاکہ سندھ کے ہیلتھ سیکٹر کا پروگرام عوامی حقوق اور وسائل کے لیے سب سے بہترین جواب ہے۔
بلاول بھٹو نے دعویٰ کیاکہ پاکستان اور دنیا میں این آئی سی وی ڈی سب سے بڑا مفت دل کے علاج کا ہسپتال نیٹ ورک ہے، اور گورنمنٹ سیکٹر میں یہ منصوبہ دل کی بیماریوں سے لے کر بون میرو اور کینسر کے علاج تک خدمات فراہم کر رہا ہے، جو پہلے ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے کہاکہ پہلے یہ ممکن نہیں تھا کہ عوام کو مفت اور وسیع علاج کی سہولت ملے، اب یہ سب ممکن ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے ایس آئی یو ٹی کے ساتھ پارٹنرشپ کی، جس سے پورے صوبے میں ایک مربوط صحت کا نیٹ ورک قائم ہوا۔ بلاول نے کہا کہ عوام تک صحت کی بہترین سہولیات پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت کے کئی شہروں میں مختلف پراجیکٹس چل رہے ہیں۔
بلاول بھٹو کے مطابق پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی نے مقامی سطح پر مفت علاج کی سہولیات کے قیام کے لیے تعاون کیا اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد یہ منصوبے مکمل ہو کر عوام کے لیے دستیاب ہوں گے۔
مزید پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم کب آئےگی اور اس میں کیا تجاویز ہوں گی؟
انہوں نے کہاکہ صوبوں کے حقوق اور مسائل پر بہت بات چیت چل رہی ہے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد ہم نے صوبے میں مفت علاج کی سہولت کا جال بچھایا۔ عوام تک صحت کی بہترین سہولیات پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
18ویں ترمیم wenews اسلام اباد بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی وفاقی حکومت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 18ویں ترمیم اسلام اباد بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی وفاقی حکومت وی نیوز انہوں نے کہاکہ کہ 18ویں ترمیم بلاول بھٹو نے ترمیم کے بعد پیپلز پارٹی سندھ حکومت حقوق اور کے لیے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔