پاکستان 2040 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی راہ پر گامزن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پاکستان اقتصادی بحالی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر اب ایسی مستحکم ترقی کی طرف جا رہا ہے جس کی بنیاد جدت، نئی سرمایہ کاری اور ایسے اصلاحاتی اقدامات پر ہے جو کاروبار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کم کررہے ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کررہے ہیں۔
اس تبدیلی کا بنیادی محرک اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) بن چکی ہے، جو سرخ فیتے کا خاتمہ، منظوری کے عمل کو تیز کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: برآمدات میں اضافے پر مبنی ملکی معاشی ترقی کے لیے عملی اقدامات کررہے ہیں، وزیراعظم
24 کروڑ سے زیادہ آبادی اور خطے میں اسٹریٹجک اہمیت کے باعث پاکستان بالآخر معدنیات، ٹیکنالوجی اور برآمدات کے شعبوں میں اپنی اصل صلاحیتیں استعمال کرنا شروع کررہا ہے۔
ریکو ڈک جیسے میگا منصوبے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آئی ٹی انڈسٹری اور ریکارڈ سی فوڈ ایکسپورٹس اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کی معیشت کا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان 2040 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہو جائے گا، ایک ایسا ہدف جو کبھی بہت دور سمجھا جاتا تھا۔
پاکستان کی معدنی دولت، جس کی مالیت قریباً 6 ٹریلین ڈالر ہے، 2030 تک سالانہ 8 سے 10 ارب ڈالر لا سکتی ہے۔
ریکو ڈک 2028 تک سالانہ 2 لاکھ ٹن تانبہ پیدا کرے گا اور 7 ہزار 500 کے قریب روزگار فراہم کرے گا، جس سے بلوچستان کی ترقی میں تعاون ہوگا۔
مالی سال 2025 میں پاکستان کی سی فوڈ برآمدات 489 ملین ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گئیں، جو اگلے سال 600 ملین ڈالر تک جانے کی رفتار رکھتی ہیں۔
آئی ٹی سیکٹر تیزی سے اوپر جا رہا ہے، 3.
سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کوانٹم کمپیوٹنگ اور 5 جی جیسے جدید شعبوں میں داخل ہو رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تمام شعبے 2030 تک جی ڈی پی میں 5 سے 7 فیصد اضافہ، روزگار کے مواقع، برآمدات اور عوامی زندگی میں بہتری لاسکتے ہیں۔
پاکستان کے 6 ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر اصلاحات اور عالمی شراکت داریوں کی بدولت ایک بڑے معاشی موقع میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
آسان لائسنسنگ اور عالمی سطح پر فعال رابطوں نے پاکستان کو ان معدنیات کا قابلِ اعتماد سپلائر بننے میں مدد دی ہے جو گرین انرجی ٹرانزیشن کے لیے ضروری ہیں۔
ریکو ڈک پاکستان کی معدنیات کے شعبے کی بحالی کی علامت ہے، جو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور ہزاروں اسکلڈ نوکریاں دے گا۔
اے آئی آئی بی کی معاونت اور کمیونٹی ٹریننگ پروگرامز مقامی آبادی کو طویل المدت معاشی فائدے حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
پاکستان کی سی فوڈ ایکسپورٹس میں اضافہ جدید ایکواکلچر طریقوں اور ایس آئی ایف سی کے تعاون سے بہتر کولڈ چین سہولیات کے باعث ممکن ہوا ہے۔
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ پاکستان کے نوجوان ڈیجیٹل اُدیمیوں (انٹرپرینیورز) کی تخلیقی صلاحیتوں اور محنت کا عکاس ہے۔
ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 ایپ ڈیولپمنٹ، اسٹارٹ اپس اور عالمی ٹیکنالوجی تعاون کو مضبوط بنا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: معاشی ترقی کے لیے نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنا ہوں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور 5 جی میں تیز رفتار پیش رفت پاکستان کے ڈیجیٹل اور صنعتی مستقبل کو نئی شکل دے رہی ہے۔
سی پیک فیز ٹو کے منصوبے بشمول ’کوانٹم ویلی‘ اور اردو اے آئی پارٹنرشپس پاکستان کو عالمی ٹیک مقابلہ میں بہتر مقام دینے کی جانب بڑا قدم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایک ٹریلین ڈالر پاکستان معاشی ترقی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایک ٹریلین ڈالر پاکستان وی نیوز ٹریلین ڈالر پاکستان کی پاکستان کے ڈالر کی رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔(جاری ہے)
جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔