امریکا میں میڈی کیئر فراڈ کرنے والے بھارتی شہری کو 2 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک ڈائیگناسٹک لیبارٹری کے ذریعے میڈی کیئر ڈیپارٹمنٹ سے لاکھوں ڈالر کا فراڈ تسلیم کرنے والے بھارتی شہری کو دو سال قید اور 11 لاکھ 74 ہزار 813 ڈالر کی رقم واپس کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
35 سالہ بھارتی ملزم کو اپریل 2025ء میں شیکاگو اوہیر ایئرپورٹ سے اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بھارت جانے کی کوشش کر رہا تھا، سزا مکمل کرنے پر بھارتی شہری کو ملک بدری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق عدالت میں جمع کروائے گئے اعترافِ جرم میں ملزم نے امریکن لیب ورکس ایل ایل سی نامی لیبارٹری کے ذریعے اُن ٹیسٹ کا بِل بھی وصول کیا جو نہ تو ڈاکٹرز نے تجویز کیے تھے اور نہ ہی مریضوں سے اِن کے سیمپل لیے گئے تھے۔
ایل ایل سی نامی لیبارٹری 2021ء میں قائم ہوئی تھی اور 2025ء میں اِسے بند کر دیا گیا تھا، ریاستی ریکارڈ میں بھارتی شہری ہی اس لیبارٹری کا مالک اور ڈائریکٹر درج تھا۔
دستاویزات کے مطابق لیب نے میڈی کیئر کو 87 لاکھ ڈالر سے زیادہ کے بِل بھیجے اور 11 لاکھ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں وصول کیں۔
اسی عرصے میں میڈی کیئر کو 2 سو سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جن میں مریضوں نے بتایا کہ اِن سے اُن ٹیسٹس کے بل بھی وصول کیے گئے جو اُنہوں نے کبھی کروائے ہی نہیں۔
بعض شکایات میں ایسے ٹیسٹ دکھائے گئے جو مریض کی وفات کے بعد کی تاریخوں میں درج تھے جبکہ کئی ڈاکٹرز نے انکشاف کیا کہ اُنہوں نے کبھی ایسے مریضوں کو اس لیب کے لیے ریفر کیا ہی نہیں تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بھارتی شہری نے کمپنی کے بینک اکاؤنٹس پر مکمل اختیار رکھا ہوا تھا اور اِن سے بھاری رقوم بھی نکلوائیں، صرف مئی 2024ء میں اس نے 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر نکالے اور کچھ ہی عرصے بعد ملک چھوڑ کر بھارت چلا گیا، بھارتی شہری مارچ 2025ء میں دوبارہ واپس امریکا پہنچا اور اپریل میں اِسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی شہری میڈی کیئر
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ