تیل و گیس کے شعبے سے معیشت کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کراچی:
معیشت کے لیے مقامی تیل و گیس کے شعبے سے مزید ایک خوشخبری سامنے آگئی۔
ترکیہ اور پاکستان کے درمیان سمندر میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کے معاہدے پر دستخط ہوگئے، معاہدے کے تحت ایسٹرن آف شور انڈس بلاک سی میں تیل و گیس کے ذخائر تلاش کیے جائیں گے۔
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے اس سلسلے میں تفصیلات پر مشتمل خط پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو ارسال کردیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے۔
خط کے مطابق پی پی ایل نے 25 فیصد شراکت داری حصہ اور آپریٹرشپ ترکیہ کی پیٹرولیم اوورسیز کو منتقل کردی ہے جبکہ او جی ڈی سی ایل اور ماری انرجیز بھی اس منصوبے میں 20 فیصد کے شراکت دار ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پی پی ایل منصوبے میں اپنا 35 فیصد حصہ برقرار رکھے گا اور یہ شراکت پاکستان کے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
خط کے مطابق یہ شراکت داری پاکستان اور ترکیہ کے طویل مدتی اسٹریٹجک توانائی اتحاد کی مضبوطی کا باعث بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔