پی آئی اے کی نجکاری رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
لاہور:
قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے۔
پی آئی اے ذرائع کے مطابق نجکاری میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے مالکان اور ماہرین آج وزیراعظم ہاؤس میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے جس کیلئے کمپنیوں کے مالکان اور پی آئی اے کے اعلیٰ حکام وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔
پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں نجکاری کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ بھی دی جائے گی، پی آئی اے کی فائنل بڈ میں چار کمپنیاں حصہ لیں گی جن میں فوجی فرٹیلائزر، عارف حبیب، یونس برادرز اور ایئر بلیو شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی بڈ میں حصہ لینے والی کمپنیوں کو کچھ تحفظات تھے تاہم وزیر اعظم از خود اس معاملے پر بات چیت کرکے تحفظات دور کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی آئی اے کی
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔