دھرمندر کی وفات کے بعد سنی دیول اور بوبی دیول کروڑوں کی وراثتی زمین سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
بھارتی فلم نگری کے لیجنڈ اداکار دھرمیندر کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے سنی دیول، بوبی دیول اور دیگر اولاد اپنی والد کی وراثتی جائیداد سے محروم ہوگئی ہے۔ دھرمیندر کا لدھیانہ میں واقع گھر جو کروڑوں روپے مالیت کا ہے اب ان کے بچوں کی ملکیت نہیں رہا۔
رپورٹس کے مطابق دھرمیندر نے اپنی زندگی کے دوران 2.5 ایکڑ زمین اور وراثتی گھر اپنے چچا کے پوتوں کو تحفے میں دے دیا تھا۔ یہ فیصلہ انہوں نے والد کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے کیا اور اس جائیداد کے قانونی کاغذات 2015 میں دستخط کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ’صحافیوں کو ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے‘، دھرمیندر کے انتقال کی خبر دینے والی اینکر تنقید کی زد میں
اس گاؤں میں رہنے والے رشتہ داروں کے مطابق دھرمیندر نے کبھی جائیداد کی مالی قیمت پر توجہ نہیں دی بلکہ اسے اپنے جذباتی تعلق کے طور پر محفوظ رکھا۔
واضح رہے کہ اداکار کی آخری فلم ’اکیس‘ میں اگستیا نندا کے ساتھ ان کی یادگار اداکاری دیکھی جائے گی۔ یہ فلم سری رام راگھون کی ہدایت کاری میں 25 دسمبر کو ریلیز ہوگی، جو ان کی وفات کے ایک ماہ بعد سینما گھروں میں پیش کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایشا دیول بالی ووڈ بوبی دیول دھرمیندر دھرمیندر انتقال سنی دیول ہیما مالنی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشا دیول بالی ووڈ بوبی دیول دھرمیندر انتقال سنی دیول ہیما مالنی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔