چین اور روس کے وزرائے خارجہ کا دوسری جنگ عظیم کی فتح کے نتائج کے تحفظ پر زور WhatsAppFacebookTwitter 0 3 December, 2025 سب نیوز

بیجنگ : چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات کی۔بدھ کے روز وانگ ای نے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس کے تعلقات نے اعلیٰ سطح پر ترقی حاصل کی ہے۔

فریقین نے اتفاق کیا کہ دوسری جنگ عظیم کی فتح کے نتائج کا مضبوطی سے تحفظ کیا جائے اور نوآبادیاتی جارحیت کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کی جائے، جو کہ عدل و انصاف کو برقرار رکھنے کے لئے وقت کا تقاضہ ہے۔ چین اور روس کو باہمی ہم آہنگی اور تعاون برقرار رکھتے ہوئے جاپان کی انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں کو روکنا ہوگا جو علاقائی امن اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں اور جاپان کو دوبارہ مسلح بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔

لاوروف نے کہا کہ روس ایک چین کے اصول پر کاربند ہے اور تائیوان کے معاملے میں چین کے موقف کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے۔ رواں برس دونوں سربراہان مملکت کے باہمی دوروں نے چین اور روس کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئی توانائی فراہم کی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپلاٹس کی ایکسڑرا فائلیں فروخت کرنیوالی ہاوسنگ سوسائیڑز کے خلاف سی ڈی اے کا کریک ڈاؤن شروع ، بڑی سوسائٹی کا دفتر سیل، تفصیلات سب نیوز پر میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز کے خلاف کارروائی، 38 پاکستانیوں سمیت سیکڑوں غیر ملکیوں کی بازیابی واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ، عدالت میں ملزم کا حیران کن مؤقف سامنے آگیا آٹھ جنگیں رکوائیں ہر جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے لیکن میں لالچی نہیں بننا چاہتا، ٹرمپ ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے تارکین وطن کی امیگریشن درخواستیں روک دیں سعودی عرب کا بڑا اعلان: فلسطین کے لیے 90 ملین ڈالر کی نئی گرانٹ چین نے جاپان سے دیانت داری سے اپنے غلط بیانات واپس لینے کا مطالبہ کیا، چینی وزارت خارجہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چین اور روس

پڑھیں:

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

 حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال