روس یورپ کے ساتھ تیسری جنگ عظیم کیلئے تیار ہے، پیوٹن کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں روسی صدر نے خبردار کیا کہ حالات بہت تیزی سے اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں ہمارے پاس بات چیت کیلئے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ روسی صدر نے یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی اپنی سازش کو ترک کر دیں۔ اسلام ٹائمز۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک کو تیسری جنگ عظیم شروع کرنے کی دھمکی دیدی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پیوٹن نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ روس یورپ کے ساتھ تیسری جنگ عظیم کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ سے لڑنے کا ارادہ نہیں اور میں یہ بات ایک سو بار کہہ چکا ہوں، لیکن یورپ نے ہمارے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا تو روس بھی تیار ہے۔
صدر پیوٹن نے خبردار کیا کہ حالات بہت تیزی سے اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں ہمارے پاس بات چیت کے لیے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ روسی صدر نے یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی اپنی سازش کو ترک کر دیں۔ ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ یاد رہے کہ روسی صدر کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے، جب روسی وفد امریکا پہنچا ہے، جہاں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔