روس یورپ کے ساتھ تیسری جنگ عظیم کیلئے تیار ہے، پیوٹن کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں روسی صدر نے خبردار کیا کہ حالات بہت تیزی سے اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں ہمارے پاس بات چیت کیلئے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ روسی صدر نے یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی اپنی سازش کو ترک کر دیں۔ اسلام ٹائمز۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک کو تیسری جنگ عظیم شروع کرنے کی دھمکی دیدی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پیوٹن نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ روس یورپ کے ساتھ تیسری جنگ عظیم کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ سے لڑنے کا ارادہ نہیں اور میں یہ بات ایک سو بار کہہ چکا ہوں، لیکن یورپ نے ہمارے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا تو روس بھی تیار ہے۔
صدر پیوٹن نے خبردار کیا کہ حالات بہت تیزی سے اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں ہمارے پاس بات چیت کے لیے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ روسی صدر نے یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی اپنی سازش کو ترک کر دیں۔ ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ یاد رہے کہ روسی صدر کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے، جب روسی وفد امریکا پہنچا ہے، جہاں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔