اے آئی ایجنٹس سے کن افراد کی ملازمتوں کو خطرہ نہیں؟ ایمازون ویب سروسز کے سربراہ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ایمازون ویب سروسز کے سی ای او میٹ گارمن نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی وجہ سے جونیئر ملازمین کو نکالنے کا تصور سب سے بے وقوفانہ بات ہے جو میں نے کبھی سنی ہے۔
گارمن نے یہ بات اے آئی سرمایہ کار میتھیو برمن کے ساتھ گفتگو میں کہی، جہاں انہوں نے ویب سیریز کے کیرو نامی اے آئی کوڈنگ ٹول کی بات کرتے ہوئے ان کاروباری رہنماؤں پر تنقید کی جو سمجھتے ہیں کہ اے آئی کمپنی کے تمام جونیئر افراد کی جگہ لے سکتی ہے۔
گارمن نے وضاحت کی کہ جونیئر اسٹاف نہ صرف نسبتاً کم خرچ ہوتا ہے بلکہ اے آئی ٹولز کے استعمال میں سب سے زیادہ دلچسپی بھی وہی رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب نے اوبر کے شریک بانی اور ریڈ سی گروپ کے سی ای او کو شہریت دے دی
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آپ 10 سال بعد ایسی ورکر فورس کے ساتھ ہوں جس نے کبھی کچھ سیکھا ہی نہیں تو پھر یہ سسٹم کیسے چلے گا؟
ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کو بدستور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو بھرتی کرنا چاہیے اور انہیں سافٹ ویئر بنانے اور مسائل کو تقسیم کر کے سوچنے کا درست طریقہ سکھانا چاہیے، بالکل اُسی طرح جیسے ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔
گارمن نے اس خیال کی بھی مخالفت کی کہ اے آئی کی کارکردگی اس بنیاد پر ماپی جائے کہ وہ کتنے فیصد کوڈ لکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اوپن اے آئی میں ’کوڈ ریڈ‘ نافذ: گوگل کے ہاتھوں چیٹ جی پی ٹی کی برتری خطرے میں
انہوں نے کہا کہ اے آئی لا محدود کوڈ لکھ سکتی ہے، مگر ہو سکتا ہے کہ یہ کوڈ خراب ہو۔
ان کے مطابق اکثر کم کوڈ زیادہ بہتر ہوتا ہے، اس لیے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اس معیار پر اتنا فخر کیوں کرتے ہیں۔
گارمن کے مطابق ایمازون ویب سروسز کے 80 فیصد سے زائد ڈویلپرز مختلف طریقوں سے اے آئی استعمال کر رہے ہیں چاہے وہ یونٹ ٹیسٹ لکھنا ہو، دستاویزات تیار کرنا ہو، کوڈ لکھوانا ہو یا ایجنٹک ورک فلو کے ذریعے تعاون کرنا۔
اے آئی کے دور میں نوجوانوں کے لیے کیریئر مشورہگارمن نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ صرف مہارتیں یاد کرنے کے بجائے ‘سیکھنے کا طریقہ’ سیکھیں۔
یہ بھی پڑھیے: برطانوی ٹی وی چینل نے اے آئی اینکر متعارف کرا دی
ان کا کہنا تھا کہ اصل مہارت یہ ہے کہ آپ خود کیسے سوچتے ہیں؟ مسائل کو حل کرنے کے لیے تنقیدی سوچ کیسے اپناتے ہیں؟ تخلیقی صلاحیت کیسے پیدا کرتے ہیں؟ اور سیکھتے رہنے کی عادت کیسے ڈویلپ کرتے ہیں؟
گارمن کے مطابق یہی مہارتیں انہیں مستقبل کے بدلتے ہوئے اے آئی ماڈلز اور ٹیکنالوجی کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں مدد دیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمازون ایمیزون اے آئی چیٹ جی پی ٹی مصنوعی ذہانت ملازمت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمازون ایمیزون اے آئی چیٹ جی پی ٹی مصنوعی ذہانت ملازمت کہ اے آئی گارمن نے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔