قابض حکام نے راجوری میں وی پی این سروسز معطل کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
مبصرین کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر اس طرح کی پابندیوں کو مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے، معلومات تک رسائی کو محدود کرنے اور کشمیریوں کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض حکام نے ضلع راجوری میں تمام ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) سروسز کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے جس سے ایک بار پھر خطے میں حالات معمول کے مطابق ہونے کے مودی حکومت کے کھوکھلے دعوئوں کی قلعی کھل گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راجوری ابھیشیک شرما کی طرف سے بھارتیہ ناگرک سرکشاسنہتا (بی این ایس ایس) کے تحت جاری کیا گیا حکمنامہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ متعدد علاقوں میں وی پی این کا غیر معمولی اور مشکوک استعمال ہو رہا ہے۔ قابض حکام نے دعویٰ کیا کہ وی پی اینز کا جو عالمی سطح پر رازداری، محفوظ مواصلات اور محفوظ برائوزنگ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، حکومت پر تنقیدی مواد کی ترسیل اور ریاست کی طرف سے عائد پابندیوں کی نظرانداز کر کے بھارت مخالف سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور ڈیجیٹل تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ بھارت کس طرح مقبوضہ جموں و کشمیر میں عام مواصلاتی آلات کے استعمال کو جرم بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر اس طرح کی پابندیوں کو مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے، معلومات تک رسائی کو محدود کرنے اور کشمیریوں کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب بھارتی حکومت خطے میں امن، ترقی اور حالات معمول پر آنے کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ وی پی این سروسز کی معطلی سے طلباء، صحافی، پیشہ ور افراد اور عام شہری متاثر ہوں گے جو محفوظ انٹرنیٹ تک رسائی پر انحصار کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔