Daily Mumtaz:
2026-06-02@20:58:08 GMT

چیٹ جی پی ٹی میں غیر اخلاقی مواد شامل کرنے کا منصوبہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

چیٹ جی پی ٹی میں غیر اخلاقی مواد شامل کرنے کا منصوبہ

معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ رواں برس اگست میں مواد سے متعلق نئی پابندیاں نافذ ہونے کے بعد چیٹ جی پی ٹی کے استعمال میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

دی انفارمیشن کی رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں میں والدین کے لیے ایسے اقدامات شامل تھے جن سے نوعمروں کے لیے خودکشی جیسے موضوعات یا بالغ مواد تک رسائی مشکل بنائی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی جلد ہی چیٹ جی پی ٹی کے لیے عمر کی تصدیق کا سافٹ ویئر متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ تصدیق مکمل ہونے کے بعد صارفین کو وسیع تر موضوعات پر بات چیت کی اجازت ملے گی۔

پابندیوں سے قبل بعض بالغ صارفین نے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ رومانوی نوعیت کی بات چیت بھی کی تھی، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اے آئی حقیقی انسان نہیں ہے۔

دی انفارمیشن کی رپورٹ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے گزشتہ ماہ اکتوبر میں بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ نیا فیچر دسمبر 2025 سے متعارف کرایا جائے گا تاہم یہ صرف شناخت شدہ بالغ صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔ تاہم اس عمل کا طریقہ کار ابھی واضح نہیں، یہ رضاکارانہ ہوگا یا خودکار، اوپن اے آئی نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

دیگر کمپنیوں، جیسے گوگل، نے نابالغ صارفین کی حفاظت کے لیے یوٹیوب اور گوگل اکاؤنٹس پر اسی طرح کے سسٹم پہلے ہی نافذ کر رکھے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بالغ صارفین کو زیادہ آزادی دینے سے پلیٹ فارم پر ان کی واپسی اور مجموعی صارفین میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

جولائی تک تقریباً تین کروڑ 50 لاکھ افراد چیٹ جی پی ٹی پلس (20 ڈالر ماہانہ) یا چیٹ جی پی ٹی پرو (200 ڈالر ماہانہ) کے سبسکرائبر تھے، جو مجموعی صارفین کا 5 فیصد بنتے ہیں۔

اوپن اے آئی کا ہدف ہے کہ سال 2030 تک یہ شرح بڑھ کر 8.

6 فیصد ہو جائے، یعنی اندازاً 2.6 بلین ہفتہ وار فعال صارفین میں سے 22 کروڑ ادائیگی کرنے والے ہوں۔

پریمیم سبسکرپشن نہ ہونے کے باوجود چیٹ جی پی ٹی مفت صارفین کو وسیع فیچرز فراہم کرتا ہے، جن میں تازہ تر ماڈلز تک رسائی، ویب سرچ، امیج جنریشن اور کسٹم چیٹ بوٹس کی تخلیق شامل ہے۔

پریمیم صارفین کو زیادہ استعمال کی حد، مزید ماڈلز اور جدید سہولیات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ پابندیوں کے باوجود چیٹ جی پی ٹی تحقیق، کوڈنگ، کام سے متعلق امور اور دیگر شعبوں میں موثر ٹول بنا ہوا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی بالغ صارفین صارفین کو کے لیے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان