چیٹ جی پی ٹی میں غیر اخلاقی مواد شامل کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ رواں برس اگست میں مواد سے متعلق نئی پابندیاں نافذ ہونے کے بعد چیٹ جی پی ٹی کے استعمال میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دی انفارمیشن کی رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں میں والدین کے لیے ایسے اقدامات شامل تھے جن سے نوعمروں کے لیے خودکشی جیسے موضوعات یا بالغ مواد تک رسائی مشکل بنائی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی جلد ہی چیٹ جی پی ٹی کے لیے عمر کی تصدیق کا سافٹ ویئر متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ تصدیق مکمل ہونے کے بعد صارفین کو وسیع تر موضوعات پر بات چیت کی اجازت ملے گی۔
پابندیوں سے قبل بعض بالغ صارفین نے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ رومانوی نوعیت کی بات چیت بھی کی تھی، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اے آئی حقیقی انسان نہیں ہے۔
دی انفارمیشن کی رپورٹ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے گزشتہ ماہ اکتوبر میں بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ نیا فیچر دسمبر 2025 سے متعارف کرایا جائے گا تاہم یہ صرف شناخت شدہ بالغ صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔ تاہم اس عمل کا طریقہ کار ابھی واضح نہیں، یہ رضاکارانہ ہوگا یا خودکار، اوپن اے آئی نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
دیگر کمپنیوں، جیسے گوگل، نے نابالغ صارفین کی حفاظت کے لیے یوٹیوب اور گوگل اکاؤنٹس پر اسی طرح کے سسٹم پہلے ہی نافذ کر رکھے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بالغ صارفین کو زیادہ آزادی دینے سے پلیٹ فارم پر ان کی واپسی اور مجموعی صارفین میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
جولائی تک تقریباً تین کروڑ 50 لاکھ افراد چیٹ جی پی ٹی پلس (20 ڈالر ماہانہ) یا چیٹ جی پی ٹی پرو (200 ڈالر ماہانہ) کے سبسکرائبر تھے، جو مجموعی صارفین کا 5 فیصد بنتے ہیں۔
اوپن اے آئی کا ہدف ہے کہ سال 2030 تک یہ شرح بڑھ کر 8.
پریمیم سبسکرپشن نہ ہونے کے باوجود چیٹ جی پی ٹی مفت صارفین کو وسیع فیچرز فراہم کرتا ہے، جن میں تازہ تر ماڈلز تک رسائی، ویب سرچ، امیج جنریشن اور کسٹم چیٹ بوٹس کی تخلیق شامل ہے۔
پریمیم صارفین کو زیادہ استعمال کی حد، مزید ماڈلز اور جدید سہولیات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ پابندیوں کے باوجود چیٹ جی پی ٹی تحقیق، کوڈنگ، کام سے متعلق امور اور دیگر شعبوں میں موثر ٹول بنا ہوا ہے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی بالغ صارفین صارفین کو کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ریلوے کا مال گاڑیوں کو ٹریک کرنے کے لیے ان پر ٹریکنگ ڈیوائس لگانے کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ریلوے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر مال گاڑیوں کی ٹریکنگ کا منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس منصوبے میں دیگر ادارے بھی پاکستان ریلوے کی معاونت کریں گے۔ ٹریکنگ کا منصوبہ اس سال دسمبر میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
سما ٹی وی کے مطابق مال گاڑیوں کو ٹریک کرنے کے لیے ان میں ٹریکنگ ڈیوائس لگائی جائے گی جس سے مال گاڑی کی لوکیشن اور صورتحال کو ٹریک کیا جا سکے گا، مال گاڑی میں کسی خرابی یا اسے شیڈ میں شفٹ کرنے کی صورت میں ریلوے حکام کو اس کا علم ہوجائے گا۔ منصوبہ کراچی سے شروع ہوگا جس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلایا جائے گا۔ پاکستان ریلوے کے پاس اس وقت دو ہزار کے قریب مال گاڑیاں موجود ہیں۔
دنیا کے 61 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہونے کا انکشاف
مزید :