فرح ندیم کی جِم کرتے ویڈیو وائرل، بولڈ لباس تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی باصلاحیت سینئر اداکارہ فرح ندیم نے جم جوائن کر لیا۔ اداکارہ کی ورزش کرتے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اداکارہ نے بڑی عمر کے افراد کو تحریک دلانے کے لیے جمنگ سیشن سے ویڈیو شیئر کی ہے۔
انہوں نے انسٹاپوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ فٹنس کی کوئی عمر نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس کی شروعات کے لیے کبھی دیر ہوتی ہے، عمر صرف ایک نمبر ہے۔ صحت ہی اصل دولت ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Farah Nadeem (@farahnadeem.
سوشل میڈیا پر سینئر اداکارہ کی ویڈیو وائرل ہوئی تو صارفین کا ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے، بعض صارفین کا کہنا ہے کہ فرح ندیم دیگر صارفین کو ورزش کی ترغیب دے رہی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں، جبکہ بعض صارفین اداکارہ کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ورزش کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا غلط نہیں ہے لیکن ویڈیو شیئر کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔