اسرائیلی فوجیوں کا گرفتاری دینے والے 2 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا واقعہ، ویڈیو منظرعام پر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں جمعرات کی شب اسرائیلی اہلکاروں کی کارروائی کے دوران پیش آنے والا واقعہ ایک ویڈیو میں ریکارڈ ہو گیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے 2 فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے چند سیکنڈ بعد ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
اس واقعے کی اسرائیلی وزارتِ انصاف نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم اسرائیل کے دائیں بازو کے وزیر ایتامار بن گویر نے اسے پہلے ہی دفاع دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو مرنا ہی چاہیے۔ اس واقعے کے عینی شاہد صحافی بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، اسرائیلی حملے میں کمانڈر کی شہادت پر حزب اللہ کا سخت ردعمل
اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ جنین کے قریب مشترکہ فوجی اور بارڈر پولیس آپریشن کے دوران 2 افراد کو گولی ماری گئی۔ فوج کے مطابق معاملہ کمانڈرز کی سطح پر زیرِ جائزہ ہے اور اسے متعلقہ اداروں کو بھیجا جائے گا۔
فلسطینی اسلامی جہاد نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ہلاک شدگان اس کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز کے کارکن تھے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکاروں نے ایک گیراج نما عمارت کا دروازہ کھولنے کے لیے مکینیکل ڈگر کا استعمال کیا، جس کے بعد دو افراد ہاتھ اٹھائے، گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے باہر آئے اور غیر مسلح ہونے کا ثبوت دیا۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ: اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید، حماس کی ثالثوں سے مداخلت کی اپیل
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بارڈر پولیس کی خصوصی فورس ’یماس‘ کے اہلکار موقع پر موجود تھے۔ ایک افسر کو ویڈیو میں حراست میں لیے گئے افراد کو ٹھوکریں مارتے اور پھر انہیں دوبارہ عمارت کے اندر جانے کا حکم دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ چند لمحوں بعد پانچ اہلکار بندوقیں تانتے ہیں اور دونوں فلسطینی فائرنگ سے موقع پر ہی گر پڑتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے واقعے کو بے رحمانہ قتل قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ اسرائیلی تنظیم بیتسلیم کی ڈائریکٹر یولی نوواک نے کہا کہ یہ واقعہ فلسطینیوں کی انسانیت سے محرومی اور جوابدہی کے خاتمے کی واضح مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر اسرائیل کا مغربی کنارے کو قبضے میں لینے پر غور
القدس بریگیڈز نے ہلاک شدگان کی شناخت 37 سالہ یوسف اساسا اور 26 سالہ محمود عبداللہ کے طور پر کی ہے اور بتایا کہ دونوں جنین بریگیڈ کے کمانڈر اور فائٹر تھے۔
ماہرین کے مطابق غیر مسلح قیدیوں کا قتل جنگی جرم ہے، تاہم اسرائیلی اہلکاروں کو فلسطینیوں کی ہلاکت پر شاذونادر ہی سزا ملتی ہے۔ IDF نے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران ہدف بنائے گئے افراد مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل فلسطین مغربی کنارہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔