عوام کیلئے بڑی خوشخبری،سولر پینلز کی قیمتوں میں حیران کن کمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
شاہدسپرا:لاہور کی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی ہونے لگی ۔
5ے15کلوواٹ تک سسٹم کی قیمت میں ڈیڑھ لاکھ روپے تک کی کمی ہو گئی ہے۔
پانچ کلوواٹ سسٹم کی قیمت مارکیٹ میں5لاکھ پچاس ہزار اور7 کلوواٹ سسٹم کی قیمت 6لاکھ پچیس ہزارروپے مقررکی گئی ہے۔
10 کلوواٹ سسٹم کے لئے 9اور 12 کلوواٹ سسٹم کے لئے قیمت دس لاکھ پچاس ہزار روپے مقررکی گئی ہے,15 کلوواٹ سسٹم کے لئے تیرہ لاکھ روپے قیمت مقرر کی گئی ہے۔
ادھار پیسے لے کر بیرون ملک جانیوالے پاکستانی ویٹ لفٹر نے گولڈ میڈل جیت لیا
مارکیٹ میں مذکورہ قیمتیں آن گرڈ سسٹم کے لئے مقرر کی گئی ہیں جبکہ ہائبرڈ سسٹم کے لئے صارفین کو بیٹریوں کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کلوواٹ سسٹم سسٹم کے لئے کی قیمت کی گئی گئی ہے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔