شوہر کیخلاف مقدمے میں بچوں کی تصاویر نہ لگائی جائے، سلینا جیٹلی کی میڈیا سے جذباتی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بھارتی اداکارہ اور سابق مس انڈیا سلینا جیٹلی نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ انہیں درپیش گھریلو تشدد کے مقدمات کی رپورٹنگ میں ان کے بچوں کی تصاویر کا استعمال نہ کیا جائے۔
اداکارہ اس وقت اپنے شوہر، آسٹریلین بزنس مین پیٹر ہیگ کے خلاف ایک سنگین قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔
انسٹاگرام پر جاری کیے گئے پیغام میں سلینا جیٹلی نے لکھا کہ وہ دل شکستہ ماں ہیں اور میڈیا سے درخواست کرتی ہیں کہ بچوں کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے۔ سلینا نے اپنے شوہر پر شدید جذباتی، جسمانی، زبانی اور مالی تشدد کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
اداکارہ نے حال ہی میں ممبئی کی عدالت میں طلاق اور مالی معاوضے کی درخواست دائر کی ہے، جس میں 10 لاکھ روپے ماہانہ خرچے اور 50 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
View this post on Instagramاس کے علاوہ انہوں نے چند ہفتے قبل دہلی کی عدالت سے اپنے بھائی میجر (ر) وکرانت جیٹلی کی مبینہ طور پر یو اے ای میں غیر قانونی حراست کے معاملے پر بھی مدد طلب کی ہے۔
سلینا جیٹلی اور پیٹر ہیگ نے 2011 میں شادی کی تھی اور دونوں کے دو جڑواں بچوں کے جوڑے ہیں۔ 2017 میں ان کے سب سے چھوٹے بیٹے شمس کا پیدائش کے فوراً بعد انتقال ہوگیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلینا جیٹلی
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔