مقبوضہ کشمیر میں این آئی اے کے چھاپے، تلاشی کی کارروائیاں
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
چھاپوں کے دوران مولوی عرفان احمد وگے، ڈاکٹر عدیل، ڈاکٹر مزمل اور عامر رشید سمیت کئی گرفتار افراد کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ ذرائع کے مطابق این آئی اے نے کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت پلوامہ، شوپیاں اور کولگام سمیت مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ چھاپوں کے دوران مولوی عرفان احمد وگے، ڈاکٹر عدیل، ڈاکٹر مزمل اور عامر رشید سمیت کئی گرفتار افراد کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی۔ چھاپوں اور مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا جواز پیش کرنے کے لئے ان کارروائیوں کو دہلی دھماکہ کیس سے جوڑا جا رہا ہے۔ ایک نوجوان لڑکا، امام مسجد، ڈاکٹر اور ایک خاتون سمیت کم از کم چھ افراد اس وقت این آئی اے کی حراست میں ہیں۔ مبصرین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سمجھتے ہیں کہ 10نومبر کو دہلی میں ہونے والا مشتبہ دھماکہ کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے بی جے پی حکومت، را اور این آئی اے جیسی ایجنسیوں کے وسیع منصوبے کا حصہ تھا۔
مبصرین کے مطابق 14نومبر کو سرینگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں ہونے والے دھماکے جس میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے، کا مقصد بھی دہلی دھماکے سے متعلق شواہد کو مٹانا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے بڑھتے ہوئے چھاپے، گرفتاریاں اور دیگر ظالمانہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت غیر کشمیریوں کو علاقے میں آباد کرنے اور اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کے لئے پی ایس اے اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارتی اقدامات عالمی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئی اے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔