قیدی نمبر 804کے نام سے کب تک پیٹ بھرے : لوگوں نے ترقی یافتہ پنجاب کو ووٹ دیا ‘ ہر ی پور میں ن لیگ نے گھر میں گھس کر مارا : مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں جیت کو عوام کے نام کرتی ہوں۔ نواز شریف کی آئیڈیالوجی کو قبول کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ اب ہم پھر دن رات محنت کریں گے۔ یہ ترقی، بہتری، بھلائی اور عوام کی فتح ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو ووٹ دینے کے لئے آنے والے بزرگ اور ویل چیئر پر آنے والی خاتون کا خصوصی شکریہ ادا کرتی ہوں۔ لوگوں نے محفوظ اور ترقی یافتہ پنجاب کو ووٹ دیا۔ تمام امیدواروں کو مبارکباد، شہباز شریف کی محنت رنگ لائی۔ صوبائی وزراء اور سیکرٹریز سے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جب پتہ ہوتا ہے کہ الیکشن ہار جانا ہے تو تب بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ ضمنی الیکشن نہیں بلکہ ریفرنڈ م تھا۔ پنجاب اور کے پی کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ دیا۔ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی ہی پہلے ہاری ہوئی تمام سیٹیں جیتی ہیں۔ فیصل آباد، سرگودھا، چک جھمرہ، ڈی جی خان، ساہیوال اور ہری پور میں مسلم لیگ (ن) نے میدان مارا۔ ہمارے پارٹی کے کچھ لوگ بھی بیانیے کی سیاست کا کہتے تھے۔ پارٹی ارکان کہتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) نے جو ترقیاتی کام کیے اور کررہی ہے اس کا فائدہ نہیں۔کہا جاتا تھا سیاسی جماعتیں ترقیاتی کاموں سے نہیں بلکہ بیانیے سے جیتتی ہے۔ پاکستان کی عوام گواہ ہے کہ بیانیے والی جماعت نے پاکستان کا کیا حال کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ بیانیہ کسی سچائی پر ہونا چاہیے، جھوٹ کسی حد تک بولا جا سکتا ہے، پرفارمنس سے بہتر کوئی بیانیہ نہیں ہوسکتا۔ نہ فیض نہ عمران دار جج، تو مقبولیت کی قلعی سب پر کھل گئی۔ شیلف لائف ختم ہوئی تو بت دھڑام سے گر گیا۔ قائد نواز شریف کی قیادت میں 2017ء سے پہلے بیانیہ نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں پر یقین کیا جاتا تھا۔ نواز شریف کے دور حکومت میں پورے ملک میں سی پیک، موٹرویز اور بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے۔ دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی تھی اور سٹاک مارکیٹ بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ جب نواز شریف کو نکالا گیا تو پاکستان کی ترقی کا اعتراف سب کررہے تھے۔ اگر بیانیہ سچا ہو تو ہی لوگ یقین کرتے ہیں ورنہ جھوٹے بیانیے پرکوئی زیادہ دیر یقین نہیں کرتا۔ حکومتوں کے پاس ترقیاتی کاموں کے علاوہ کوئی بیانیہ نہیں ہوتا۔ جن کے پاس صرف بیانیہ تھا وہ بڑے آرام سے ضمنی الیکشن میں نیچے گر گئے۔ جب کوئی مشکلات میں گھرا ہو تو لوگ ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ مقبولیت کے دعوے کرنے والے ضمنی الیکشن میں کہیں نظر نہیں آئے۔ 2018ء میں نواز شریف کی مقبولیت کی وجہ سے پانچ ہفتے تک الیکشن کا رزلٹ رکوانے پڑا، آر ٹی ایس بٹھانا پڑا۔ آج نہ ہی فیض ہے اور نہ ہی کوئی عمران دار ججز جو اس پارٹی کو سپورٹ کرے۔ 2017 میں میری والدہ نے تاریخ کا مشکل ترین الیکشن لڑا۔ ضمنی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پری الیکشن اور پوسٹ الیکشن دھاندلی کے باوجود 14ہزار کی لیڈ سے الیکشن جیتا۔ فیض اور ریاست کی پوری طاقت مخالف امیدوار کے ساتھ تھی، سٹیٹ کے سامنے کھڑا ہونا آسان نہیں ہوتا۔ الیکشن جیتنے کے لئے نہیں لڑتے بلکہ جمہوری رویہ کو برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں ہمیں صرف دو سیٹ ملنے کا بتا دیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر میں بہت بڑے عوامی جلسے کرکے بتادیا کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن 2021 میں دھاندلی ہوتے پوری دنیا نے دیکھا۔ ضمنی الیکشن میں جیت کو نواز شریف اور پنجاب کے عوام اور کے پی کے کے عوام کی نذر کرتی ہوں۔ ایک بزرگ سے موجودہ وزیراعلیٰ کے پی کے نے جوتے کا تسمہ بند کرایا، ویڈیو ریلیز کی، یہ تذلیل ہے۔ شہداء کے لواحقین کو اپنے گھر بلا کر تعزیت کرنا بھی تذلیل کے مترداف ہے۔ دنیا ترقیاتی دور میں داخل ہوچکی۔ جبکہ کے پی کے پتھر کے دور میں چلا گیا ہے۔ کے پی کے میں کرپشن کے ڈھیر ہیں اور تکیوں کے نیچے سے پیسے نکل رہے ہیں۔ پونے دو سال میں شہباز شریف اور مریم نواز شریف کی کارکردگی پر لوگوں نے مہر ثبت کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پاپولر لیڈر کبھی بھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرتا۔ تمام جماعتوں سے کہتی ہوں کہ آئیں پاپولر بیانیہ کی بجائے ترقیاتی کاموں کی طرف توجہ دیں۔ پنجاب کے اندر مہنگائی کنٹرول اور روٹی سستی مل رہی ہے۔ پورے پنجاب میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت گھر گھر سے کوڑا کرکٹ اور گلی محلوں سے کوڑا اٹھا یا جارہا ہے۔ صوبے بھر میں 20ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر ومرمت کی جارہی ہے۔ ہسپتالوں میں 100ارب روپے کی فری میڈیسن دی جارہی ہے۔ گزشتہ حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں فری میڈیسن کو بند کر دیا گیا تھا۔ صحت کارڈ نواز شریف کا منصوبہ اس منصوبہ کو کرپشن کی نذر کر دیا گیا۔ دل کے مریض، ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور انسولین کے مریضوں کو فری میڈیسن ان کے گھر تک دوائی پہنچائی جارہی ہے۔ رمضان المبارک میں لوگوں کے گھر پر دستک دیکر راشن دیا جاتا۔ 10 ماہ کی قلیل مدت میں ایک لاکھ 15ہزار گھر اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے تحت بن رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ پنجاب میں فرٹیلائزر کی کوئی کمی نہیں ہے۔ گرین بسیں ہر شہر میں، صرف 20روپے میں عوام مستفید ہورہے ہیں۔ 80ہزار سکالر شپ غریب اور نادار طلبہ کو پنجاب حکومت دے رہی ہے۔ دوسرے صوبوں کے طلبہ بھی پنجاب حکومت کی طرز پر سکالر شپ پروگرام شروع کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دوسرے صوبے ہمارے پراجیکٹ کو کاپی کر سکتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ ہماری حکومت آنے سے پہلے صوبہ پنجاب جرائم کا گڑھ بن چکا تھا۔ تنخواہ دار طبقے سے تنخواہ چھینی جارہی تھی، بھتہ خور ی عروج پر تھی۔ آج الحمدللہ خواتین کے لئے محفوظ ترین صوبہ بن گیا ہے۔ پنجاب میں 70فیصد جرائم میں کمی آچکی ہے۔ کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال میں پونے دو کروڑ لوگوں کو علاج کیا گیا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں پہلی مرتبہ میڈیسن فری کے اعلانات کیے جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں 11لاکھ بچوں کو غذائیت سے بھرپور دودھ فراہم کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سپیشل چلڈرن بچوں کے لئے ہر ضلع میں سپیشل سنٹر آف ایکسی لینس بنا رہے ہیں۔ دو ماہ قبل تاریخ کا بد ترین فلڈ آیا تھا، لیکن تاریخ میں ریکارڈ کام کیے گئے۔ پوری انتظامیہ نے ایک ٹیم بن کر فلڈ میں لاکھوں جانوں کو بچایا گیا۔ ایک ماہ کے اندر سیلاب متاثرہ علاقوں کو سروے کیا گیا اور ان کا حق ان کو دیا گیا۔ سیلاب متاثرہ لوگوں کی مدد کے لئے دنیا سے ہاتھ پھیلانا پنجاب کے عوام کی تذلیل سمجھتی ہوں۔ دوسرے صوبے کے لوگوں کو بھی اپنی حکومت سے پوچھنا چاہیے کہ ہمارے وسائل سے کیا کیا ہے۔ آج دنیا لاہور کی ترقی اور صفائی ستھرائی دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ سال لاہور میں سموگ نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ہر سال لاہور میں سکول، مارکٹیں، شادی ہالز کو سموگ کی وجہ سے بند کرنا پڑتا تھا۔ اس سال لاہور میں سموگ کی وجہ سے کسی بھی ادارے یا مارکیٹ کو بند نہیں کیا گیا۔ آج ہم نے قیدی نمبر804 کو اس کے گھر میں شکست دی تو صرف ترقیاتی پراجیکٹس کی وجہ سے دی۔ لوگوں کو سوشل میڈیا سے پتہ چل رہا ہے کہ کے پی کے اور پنجاب میں کیا ہورہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جو بچے کے پی کے میں وسائل نہیں رکھتے وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی سکالر شپ، گرین بسیں، سڑکیں تعمیر ہوں۔ سیاسی جدوجہد جیتنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے آپ کو منوانے کے لئے ہوتی ہے۔ آج ترقیاتی کاموں کے نام پر مسلم لیگ (ن) نے میانوالی سے الیکشن جیتا۔ فیض حمید اور بابا ڈیم نے ایک شخص کو وزیر اعظم بنایا تھا۔ ساڑھے تین سال جادو ٹونے کی حکومت نے میانوالی کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ ساڑھے تین سال تک حکومت جادو ٹونے پر چلائی جارہی تھی۔ نواز شریف اور مجھے ایک ہی سیل میں ہونے کے باوجود ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔ نواز شریف اور مجھے اپنی والدہ کی موت کی خبر جیل کے سیل میں ملی۔ جب آپ پاکستان پر حملہ آور ہوں گے تو سیاسی جماعت کہنے کا کوئی حق نہیں۔ جن امراض کا علاج پاکستان میں نہیں ہوتا تھا ان کے لئے ہسپتال بنارہے ہیں۔ دو کروڑ لوگوں کو گھروں کی دہلیز پر علاج کی سہولت دے رہے ہیں۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کو بھی انسولین گھروں تک پہنچائیں گے۔ لاہور میں 30ہزار بچوں کو لنچ دیا جارہا، پنجاب بھر میں 40ہزار سپیشل بچوں کو لنچ دے رہے ہیں۔ سموگ پر پچھلے سال کا موازنہ کریں گے تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ہر سال مریضوں کی لائنیں لگ جاتی تھی، سکول اور مارکیٹ بند کرنی پڑتی تھی۔ بیانیہ اور قیدی نمبر804کو شکست دی، ہری پور میں (ن) لیگ نے گھر میں گھس کر مارا۔ قیدی نمبر804کے نام سے کب تک لوگوں کے پیٹ بھریں گے۔ پنجاب میں کرپشن کا خاتمہ کیا، پیرا بننے کے بعد تجاوزات نظر نہیں آتیں۔ سیاسی جدوجہد کرکے میانوالی سے (ن) لیگ جیتی۔ میانوالی کی جس سیٹ سے وزیراعظم بنے وہاں کے حالات دیکھنے والے تھے۔ میانوالی نے پہلے ہمیں ووٹ نہیں دیا تو اس کے باوجود الیکٹرک بس کا آغاز میانوالی سے کیا۔ کیونکہ ہمیں میانوالی اور پنجاب کے لوگوں سے پیار ہے۔ ہم چائنہ پاکستان کوریڈور بنارہے تھے، یہ گوگی پنکی اکنامک کوریڈور بنا رہے تھے۔ عالمی ادارے لکھ رہے تھے ملک جادو ٹونے پر چل رہا تھا۔ جیل میں تھی تو بیٹی روتی ہوئی آتی تھی اور روتی ہوئی جاتی تھی۔ ایک ہی جیل میں ہونے کے باوجود مجھے نواز شریف سے ہفتہ میں ایک ہی مرتبہ صرف 20منٹ کی اجازت ملتی تھی۔ ماں کی موت کی خبر جیل میں ملی لیکن الیکشن کا بائیکاٹ پھر بھی نہیں کیا۔ آپ قانون توڑیں گے تو سیاسی جماعت کہلانے کا حقدار نہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ضمنی انتخابات میں کامیاب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی خدمت کرنے والوں کو پاکستان کے عوام نے پھر سے سرخرو کیا۔ نفرت، فتنہ اور فساد کا باب ختم، خدمت اور ترقی کا نیا عہد شروع ہوچکا ہے۔ مریم نواز شریف نے پاکستان کی پہلی شہید خاتون پائلٹ مریم مختیار کی برسی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہید مریم مختیار پاکستانی قوم کا افتخار ہیں۔ فائٹر پائلٹ مریم مختیار شہید قوم کی بیٹیوں کیلئے باعث فخر ہیں۔ قوم کی ہر بہادر بیٹی پر فخر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں ترقیاتی کاموں نواز شریف کی پاکستان کی کے باوجود لاہور میں نہیں بلکہ الیکشن کا کی وجہ سے شریف اور لوگوں کو کرتی ہوں مسلم لیگ پنجاب کے نہیں کیا کے پی کے دیا گیا رہی تھی رہے تھے کے عوام رہے ہیں رہی ہے کے لئے کے نام
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔