قومی اور پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ شروع، 20 ہزار اہلکار تعینات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں صبح 8 بجے سخت سیکورٹی میں پولنگ شروع ہوگئی، جو شام 5 بجے اختتام پذیر ہوگی۔
زیادہ تر نشستیں اس وقت خالی ہوئی تھیں، جب پی ٹی آئی کے وہ اراکین نااہل قرار پائے تھے جنہیں سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی تھیں۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 ہری پور، این اے 96 فیصل آباد، این اے 104 فیصل آباد، این اے 129 لاہور، این اے 143 ساہیوال اور این اے 185 ڈیرہ غازی خان میں پولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 79 سرگودھا، پی پی 87 میانوالی، پی پی 98 فیصل آباد، پی پی 115 فیصل آباد، پی پی 116 فیصل آباد، پی پی 203 ساہیوال اور پی پی 269 مظفر گڑھ کی نشستوں پر بھی اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے عوام آج ووٹ ڈال رہے ہیں۔
سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی
پنجاب میں ضمنی انتخابات کے آغاز کے ساتھ ہی صوبے کی قومی اور صوبائی نشستوں پر 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
اسی دوران، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے ضابطہ اخلاق کے مطابق مسلح افواج کے جوان اُن پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات رہیں گے، جنہیں ’انتہائی حساس‘ قرار دیا گیا ہے، جب کہ باقی اسٹیشنوں پر وہ بطور تیسرے درجے کے فوری ردعمل کے لیے تیار رہیں گے۔
اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 245، قانون اور الیکشن کمیشن کے مینڈیٹ کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
مقررہ پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعیناتی کے دوران، انہیں صرف محفوظ ماحول یقینی بنانے، قوانین کی مکمل پاسداری کرنے، ووٹرز کے تحفظ اور پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہیں یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ کسی اہل ووٹر کو پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے سے روکیں، سوائے اُن صورتوں میں جب کوئی شخص اسلحہ، دھماکا خیز مواد یا ممنوعہ اشیا لے کر آئے، یا تشدد بھڑکانے یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرے۔
قومی اسمبلی
ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کی 6 نشستوں پر ہو رہے ہیں، جن میں سے این اے 18 ہری پور کی نشست پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی تھی، اب ان کی اہلیہ، شہر ناز عمر ایوب پہلی بار الیکشن لڑ رہی ہیں اور ان کا مقابلہ بابر نواز سے ہے۔
این اے 96 میں مسلم لیگ (ن) نے محمد بلال بدر چوہدری کو ٹکٹ دیا ہے، جو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے بھائی ہیں۔
این اے 104 میں مسلم لیگ (ن) نے دانیال احمد کو نامزد کیا ہے، جن کا مقابلہ 3 آزاد امیدواروں سے ہے، دانیال احمد، سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے بیٹے ہیں، وہ پہلے بھی الیکشن لڑ چکے ہیں مگر صاحبزادہ حامد رضا سے شکست کھا گئے تھے، جنہوں نے ایک لاکھ 32 ہزار 655 ووٹ حاصل کیے تھے۔
این اے 129 کی نشست سابق گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی کے رہنما میاں محمد اظہر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، اب ان کے نواسے چوہدری ارسلان الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) نے حافظ میاں محمد نعمان کو میدان میں اتارا ہے۔
این اے 143 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد طفیل جٹ کا مقابلہ آزاد امیدوار ضرار اکبر چوہدری سے ہے۔
این اے 185 میں پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ اور مسلم لیگ (ن) کے محمود قادر خان لغاری اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔
پنجاب اسمبلی
پنجاب میں 7 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے، پی پی 73 میں میں مسلم لیگ (ن) نے میاں سلطان علی رانجھا کو ٹکٹ دیا ہے۔
پی پی 88 میں پارٹی نے آزاد علی تبسم کو نامزد کیا ہے، جو 9 آزاد امیدواروں کے خلاف میدان میں ہیں، 2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں تھا اور ن لیگ نے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار محمد اجمل کی حمایت کی تھی، جو پی ٹی آئی کے جنید افضل ساہی کے مقابلے میں رنر اپ رہے تھے۔
پی پی 115 میں حکمران جماعت کے امیدوار محمد طاہر پرویز 3 آزاد امیدواروں اور ایک عوامی جسٹس پارٹی پاکستان (اے جے پی پی) کے امیدوار کے مقابلے میں ہیں، طاہر پرویز 2024 کے انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور پی ٹی آئی کے شاہد جاوید کے بعد رنر اپ رہے تھے۔
پی پی 116 میں مسلم لیگ (ن) نے احمد شہریار کو ٹکٹ دیا ہے، جو سینیٹر رانا ثنا اللہ کے داماد ہیں، ان کا مقابلہ 5 آزاد امیدواروں اور ایک پاکستان نظریاتی پارٹی (پی این پی) کے امیدوار سے ہے، 2024 کے انتخابات میں شہریار نے 52 ہزار 517 ووٹ حاصل کیے تھے اور رنر اپ رہے تھے۔
پی پی 203 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد حنیف جٹ (محمد طفیل جٹ کے بھائی) کا مقابلہ آزاد امیدوار فلک شیر ڈوگر سے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آزاد امیدواروں پنجاب اسمبلی آزاد امیدوار انتخابات میں میں مسلم لیگ قومی اسمبلی پی ٹی آئی کے کے امیدوار فیصل ا باد نشستوں پر کا مقابلہ
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔