قومی اسمبلی 6، صوبائی کے 7 حلقوں میں انتخابی دنگل آج: سخت سکیورٹی انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
لاہور‘ اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نامہ نگار + نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی) قومی اسمبلی کے6 اور صوبائی اسمبلی کے7 حلقوں پر ضمنی انتخابات کا دنگل آج سجے گا۔ امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج بھی تعینات ہو گی۔ الیکشن کمشن کے مطابق قومی اسمبلی کی6 اور پنجاب اسمبلی کی7 نشستوں پر آج ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس ضمن میں تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقوں این اے18 ہری پور، این اے 96 فیصل آباد، این اے104 فیصل آباد، این اے129 لاہور، این اے143 ساہیوال اور این اے185 ڈی جی خان میں ضمنی الیکشن ہوگا۔ پنجاب اسمبلی کی پی پی98 بھکر، پی پی115 اور 116 فیصل آباد، پی پی73 سرگودھا، پی پی87 میانوالی، پی پی203 ساہیوال اور پی پی269 مظفرگڑھ پر بھی آج ووٹنگ ہوگی۔ الیکشن کمشن نے بھی پاکستان آرمی، سول آرمڈ فورسز اور مقامی پولیس کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اور نامزد عسکری و سول افسروں کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات بھی تفویض کیے ہیں۔ انتخابی حلقوں میں فوجی دستے22 سے24 نومبر تک موجود رہیں گے۔ ضمنی انتخابات میں این اے129 میں ن لیگ کے حافظ نعمان اور آزاد امیدوار ارسلان احمد میں کڑا مقابلہ متوقع ہے۔ این اے18 ہری پور میں عمر ایوب کی اہلیہ اور مسلم ن لیگ کے بابر نواز میں کانٹے کے مقابلے کا امکان ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر پنجاب میں قومی و صوبائی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ ضمنی انتخابات کی سکیورٹی کے فرائض کی انجام دہی کے لیے 20 ہزار سے زائد پولیس افسر و اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پنجاب پولیس ووٹرز کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرے گی تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ الیکشن کمشن کے ضابطہ اخلاق، دفعہ 144 اور اسلحہ پابندی کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ صوبے بھر کے 939 مردانہ، 889 زنانہ اور 964 جوائنٹ پولنگ سٹیشنز پر پولیس فورس تعینات ہے، جبکہ مجموعی طور پر 2792 پولنگ سٹیشنز میں سے 408 کو انتہائی حساس اور 1032 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ دریں اثناء لاہور کے حلقہ این اے 129 میں ضمنی الیکشن کے موقع پر سکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ ٹاؤن شپ آر او آفس سے انتخابی عملے نے پولیس کی نگرانی میں سامان وصول کرکے متعلقہ مقامات پر پہنچا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق حلقے میں 558,364 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔جن میں 289,339 مرد جبکہ 269025 خواتین ہیں۔132 بلڈنگ میں 334 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔کیٹٹیگری اے کی 26 بلڈنگ کے 110 پولنگ سٹیشن سکیورٹی اعتبار سے حساس ہیں۔ جبکہ سکیورٹی ڈیوٹیوں پر مجموعی طور پر 5,152 اہلکار،402 لیڈیز پولیس اہلکار تعینات کی گئی ہیں۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ضمنی انتخابات کے حوالے سے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ وہ مظفرگڑھ اور ڈی جی خان کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ باہر نکل کر اپنا ووٹ کاسٹ کریں۔ پی پی 269 مظفرگڑھ اور این اے 185 ڈی جی خان میں ضمنی الیکشن ہو رہا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے حلقے میں میاں علمدار قریشی جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ میں دوست محمد خان کھوسہ پارٹی کے امیدوار ہیں انہیں ووٹ دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ضمنی انتخابات قومی اسمبلی اسمبلی کے گئے ہیں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔