ضمنی انتخابات کا میدان سج گیا: قومی اسمبلی کے 6 حلقوں میں پولنگ کل ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
ملک میں ضمنی انتخابات کا سلسلہ کل قومی اسمبلی کے چھ حلقوں میں شروع ہوگا، جن میں پانچ حلقے پنجاب کے اور ایک حلقہ ہری پور کا شامل ہے۔
انتخابات میں ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز مختلف آزاد امیدواروں سے مقابلہ کریں گے، جبکہ ڈیرہ غازی خان میں اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہوں گی۔ ڈی جی خان میں ن لیگ کے قادر کھوسہ اور پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
سب سے بڑا انتخابی معرکہ این اے-18 ہری پور میں ہوگا، جہاں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شہرناز کا مقابلہ ن لیگ کے بابر نواز خان سے ہے۔ یہ سیٹ عمر ایوب کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی، جس پر انہوں نے اپنی اہلیہ کو امیدوار بنایا ہے۔
لاہور کے حلقہ این اے-129 میں ن لیگ کے حافظ نعمان اور آزاد امیدوار ارسلان احمد کے درمیان ٹاکرا ہوگا۔
فیصل آباد کے این اے-96 میں ن لیگ کے بلال بدر اپنی ہی پارٹی کے سابق امیدوار نواب شیر وسیر کے ساتھ مد مقابل ہوں گے۔
این اے-104 میں لیگی امیدوار راجا دانیال اور آزاد امیدوار رانا عدنان کا مقابلہ ہوگا، جبکہ این اے-143 میں ن لیگ کے طفیل جٹ اور آزاد امیدوار ضرار اکبر چوہدری آمنے سامنے ہوں گے۔
ان حلقوں میں کل ہونے والے ضمنی انتخابات سیاسی جماعتوں کے لیے بڑے اہمیت کے حامل ہیں اور ملک کے سیاسی منظرنامے پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا زاد امیدوار میں ن لیگ کے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔