سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے مؤثر حل کے لیے ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کو جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں جی20 لیڈرز سمٹ سے خطاب کے دوران کہی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے سعودی عرب کو اپنا اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دے دیا

شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر عالمی معیشت کو مزید مربوط اور پائیدار بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے خوشحال اور محفوظ مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مسائل، جیسے کہ کچھ ممالک پر قرضوں کا بوجھ، خوراک اور توانائی کی سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل تبدیلی، عالمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ جی20 ممالک کو 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے مطابق اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ، اور وسائل کے موثر استعمال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب میں اہم پیشرفت: روہنگیا مسلمانوں کا دیرینہ قانونی مسئلہ حل

انہوں نے غیر قانونی مالی بہاؤ کو روکنے اور شفاف و مستحکم مالی نظام قائم کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ شہزادہ فیصل نے کہا کہ عالمی چیلنجز کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور ان کا حل بین الاقوامی یکجہتی اور مشترکہ ذمہ داری کے تحت ہی ممکن ہے۔

انہوں نے جی20 ممالک کی ذمہ داری پر زور دیا کہ وہ عالمی اقتصادی پالیسیوں میں ہم آہنگی، پائیدار سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور مالی و اقتصادی بحرانوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی حفاظت کے لیے قیادت فراہم کریں۔

شہزادہ فیصل کی قیادت میں سعودی عرب کی نمائندگی میں وزیر خزانہ محمد الجدعان اور سعودی شیربا عبدالمحسن الخلاف بھی سمٹ میں شریک تھے۔ جنوبی افریقہ کے صدر سرل رامافوسا نے سمٹ کا افتتاح کیا اور عالمی اقتصادی استحکام، توانائی و خوراک کی سلامتی اور کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عالمی اقتصادی شہزادہ فیصل انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

امریکا میں آپریشن چیک میٹ(Operation Checkmate) کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔

دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔

امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔

خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔

مزیدپڑھیں:مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ

سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے